درختِ دعا اور بوڑھا مسافر: ایک سبق آموز کہانی

 






💕السلام علیکم و رحمت اللہ وبرکاتہ

دوستوں کیسے ہیں آپ سب اُمید ہے آپ حضرات خیرو  عافیت سے ہونگے دوستوں آج میں آپکے لئے ایسی کہانی لیکر آیا ہوں جسنے میری زِندگی بدل دی۔۔۔

& تمھید;

کچھ کہانیاں محض لفظوں کا مجموعہ نہیں ہوتیں، بلکہ وہ ہماری روح کے بند دروازوں پر دستک دیتی ہیں۔ زندگی کی بھاگ دوڑ میں ہم اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ کامیابی کا راستہ صرف محنت سے نہیں، بلکہ نیت کی سچائی اور دوسروں کے لیے دل میں موجود ہمدردی سے ہو کر گزرتا ہے۔ یہ کہانی ایک ایسے ہی بوڑھے مسافر کی ہے جس نے ایک انجان بستی کو وہ سبق سکھایا جو آج کے دور میں ہم سب کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

بستی کا حال

ایک زمانے کا ذکر ہے کہ ایک بہت ہی سرسبز اور خوشحال بستی ہوا کرتی تھی، جس کا نام 'گلستاں' تھا۔ وہاں کے لوگ محنتی تھے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے دلوں میں خود غرضی اور لالچ نے گھر کر لیا تھا۔ ہر شخص صرف اپنے فائدے کی سوچتا تھا۔ پڑوسی کو پڑوسی کی خبر نہ تھی اور غریب کی مدد کرنا اب وہاں کے لوگوں کے لیے ایک فضول کام بن چکا تھا۔

اسی بستی کے بیچوں بیچ ایک بہت پرانا اور گھنا برگد کا درخت تھا، جسے لوگ 'خاموش گواہ' کہتے تھے۔ روایت تھی کہ اس درخت کے سائے میں بیٹھ کر کی گئی دعا کبھی رد نہیں ہوتی، لیکن شرط یہ تھی کہ وہ دعا صرف اپنے لیے نہ ہو۔ مگر افسوس! برسوں سے اس درخت کے نیچے کسی نے دعا نہیں مانگی تھی، کیونکہ وہاں کے لوگ دوسروں کے لیے بھلا چاہنا بھول چکے تھے۔

مسافر کی آمد

ایک تپتی دوپہر، جب سورج آگ برسا رہا تھا، ایک بوڑھا مسافر بستی میں داخل ہوا۔ اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے، پیروں میں جوتے نہیں تھے اور چہرہ تھکن سے نڈھال تھا۔ وہ چلتے چلتے اسی برگد کے درخت کے نیچے پہنچا اور سائے میں بیٹھ کر لمبی سانس لی۔

بستی کے لوگ اسے حقارت سے دیکھ رہے تھے۔ کوئی اسے بھکاری سمجھ رہا تھا تو کوئی اسے بستی کے لیے بدشگونی قرار دے رہا تھا۔ ایک دولت مند تاجر وہاں سے گزرا، مسافر نے اس سے پینے کے لیے پانی مانگا۔ تاجر نے منہ پھیر لیا اور کہا، "یہاں مفت میں کچھ نہیں ملتا، آگے بڑھو!"

مسافر مسکرایا اور کچھ نہ بولا۔ اس نے اپنی آنکھیں بند کیں اور درخت کے تنے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔

درخت کا معجزہ

کچھ ہی دیر گزری تھی کہ بستی میں ایک عجیب ہلچل مچی۔ بستی کا وہ کنواں جو برسوں سے سوکھ چکا تھا، اچانک پانی سے بھر گیا۔ کسانوں کی مرجھائی ہوئی فصلیں لہلہانے لگیں۔ لوگ حیران رہ گئے کہ یہ معجزہ کیسے ہوا؟

بستی کا قاضی، جو ایک دانا شخص تھا، سمجھ گیا کہ یہ سب اس بوڑھے مسافر کی بدولت ہے۔ وہ دوڑتا ہوا درخت کے پاس پہنچا اور دیکھا کہ بوڑھا مسافر خاموشی سے دعا مانگ رہا تھا۔ قاضی نے ادب سے پوچھا، "اے بزرگ! آپ نے اللہ سے کیا مانگا کہ ہماری اجڑی ہوئی بستی پھر سے آباد ہو گئی؟"

مسافر نے اپنی نم آلود آنکھیں کھولیں اور دھیمے لہجے میں کہا:

"میں نے اپنے لیے کچھ نہیں مانگا۔ میں نے تو بس اللہ سے یہ کہا کہ اے باری تعالیٰ! اس بستی کے لوگوں کے دلوں سے سختی ختم کر دے، ان کو وہ رزق عطا کر جو ان کی ضرورت سے زیادہ ہو، تاکہ یہ دوسروں کی مدد کر سکیں۔ میں نے مانگا کہ ان کی فصلیں ہری ہو جائیں تاکہ یہاں کوئی بچہ بھوکا نہ سوئے۔"

اصل نصیحت (حاصلِ کلام)

بستی کے لوگ یہ سن کر شرم سے پانی پانی ہو گئے۔ وہ مسافر جس کو انہوں نے پانی کا ایک گھونٹ تک نہ دیا، وہ ان کی خوشحالی کی دعائیں مانگ رہا تھا۔

بوڑھے مسافر نے لوگوں کو جمع کیا اور ایک ایسی بات کہی جو آج بھی اس بستی کی دیواروں پر لکھی ہے:

"یاد رکھو! رزق صرف وہ نہیں جو تم کھاتے ہو، بلکہ رزق وہ ہے جو تم بانٹتے ہو۔ تمہاری اصل کمائی وہ دعا ہے جو تمہارے عمل کی وجہ سے کسی کے دل سے نکلتی ہے۔ جب تم دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہو، تو کائنات کا مالک تمہارے لیے راستے خود بخود کھول دیتا ہے۔"

اس دن کے بعد بستی 'گلستاں' کے لوگوں کا رویہ بدل گیا۔ وہ بوڑھا مسافر تو اگلے دن چلا گیا، لیکن وہ درخت آج بھی وہاں موجود ہے، جو لوگوں کو یہ یاد دلاتا ہے کہ انسانیت کا سب سے بڑا درجہ "دوسروں کے کام آنا" ہے۔

نتیجہ (Conclusion)

دوستو! اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہم اپنی زندگی میں کتنے ہی کامیاب کیوں نہ ہو جائیں، اگر ہمارے دل میں دوسروں کے لیے تڑپ نہیں ہے، تو ہم اندر سے خالی ہیں۔ آئیے آج سے یہ عہد کریں کہ ہم اپنی ذات سے کسی نہ کسی کو فائدہ پہنچائیں گے۔ کیونکہ دیا اسی وقت روشن رہتا ہے جب وہ دوسروں کو روشنی دے رہا ہو۔

اگر آپکو یے کہانی پسند آئی ہو تو اسے اپنے دوستوں کے اور فيملی کے ساتھ شئیر کریں اور کمینٹ کرکے بتائیں کے آپکو اِس واقعہ سے کیا سبق ملا 



Comments

Popular posts from this blog

​عنوان: صبر کا دامن اور وفا کا صلہ: ایک غریب یتیم کی سچی داستاں

شبِ برات کی حقیقت: مستند احادیث اور اکابرین کی روشنی میں

شب براءت: فضائل، مسائل اور اصلاحِ معاشرہ کا ایک جامع مطالعہ