خالی ہاتھ اور بھرا دل
ایک پرسکون بستی کے کنارے ایک بوڑھا درویش رہتا تھا، جسے لوگ "بابا فرید" کے نام سے جانتے تھے۔ بابا فرید کے پاس نہ تو سونے کے ڈھیر تھے اور نہ ہی اونچے محلات، لیکن ان کی آنکھوں میں وہ سکون تھا جو بادشاہوں کے ماتھے پر بھی نظر نہیں آتا تھا۔ لوگ دور دور سے ان کے پاس اپنے دکھوں کا مداوا ڈھونڈنے آتے تھے۔
ایک دن ایک نوجوان، جس کا نام شاہد تھا، بابا کے پاس آیا۔ شاہد بہت پریشان اور زندگی سے بیزار تھا۔ اس کے پاس دولت کی کمی نہیں تھی، اس کا کاروبار چمک رہا تھا، لیکن اس کے دل میں ایک ایسی خلش تھی جو اسے چین سے بیٹھنے نہیں دیتی تھی۔ وہ بابا کے پاس آکر بیٹھ گیا اور بھرائی ہوئی آواز میں بولا، "بابا! میں سب کچھ پا کر بھی خالی محسوس کرتا ہوں۔ مجھے وہ راز بتائیے جس سے زندگی مکمل ہو جائے۔ میں ایک ایسی خوشی چاہتا ہوں جو کبھی ختم نہ ہو۔"
بابا فرید نے مسکرا کر شاہد کی طرف دیکھا اور کہا، "بیٹا! راز تو بہت سادہ ہے، لیکن اسے پانے کے لیے تمہیں میرے ساتھ ایک سفر پر چلنا ہوگا۔" شاہد فوراً تیار ہو گیا۔
بابا نے اپنے کاندھے پر ایک پرانا جھولا ڈالا اور شاہد سے کہا، "اس راستے پر چلو اور جو بھی پتھر تمہیں خوبصورت یا عجیب لگے، اسے اٹھا کر اپنے اس تھیلے میں ڈالتے جانا۔" شاہد نے ویسا ہی کیا۔ جیسے جیسے وہ آگے بڑھتے گئے، شاہد کو رنگ برنگے، چمکدار اور نوکیلے پتھر ملتے گئے۔ وہ خوشی خوشی انہیں اپنے تھیلے میں بھرتا رہا۔
کچھ میل چلنے کے بعد شاہد کا سانس پھولنے لگا۔ تھیلا اب اتنا بھاری ہو چکا تھا کہ اسے اٹھانا مشکل ہو رہا تھا۔ اس کے کندھے دکھنے لگے اور پیشانی پر پسینے کے قطرے نمودار ہو گئے۔ آخر کار وہ ایک جگہ بیٹھ گیا اور ہانپتے ہوئے بولا، "بابا! اب میں مزید ایک قدم بھی نہیں چل سکتا۔ یہ تھیلا بہت وزنی ہو گیا ہے، یہ پتھر مجھے تھکا رہے ہیں۔"
بابا فرید نے سکون سے جواب دیا، "بیٹا! یہی تمہاری زندگی کا پہلا سبق ہے۔ یہ پتھر تمہاری وہ خواہشات، انا، حسد اور ماضی کی تلخ یادیں ہیں جنہیں تم نے اپنے دل کے تھیلے میں جمع کر رکھا ہے۔ تم چاہتے ہو کہ تم تیزی سے زندگی کا سفر طے کرو، لیکن ان بوجھ تلے دبے ہوئے تم صرف تھکن محسوس کرو گے۔"
شاہد کی آنکھیں کھل گئیں۔ اس نے فوراً تھیلا پلٹ دیا اور سارے پتھر باہر نکال پھینکے۔ جیسے ہی بوجھ ختم ہوا، اسے ایک عجیب سا سکون محسوس ہوا۔ لیکن بابا نے کہا، "ٹھہرو! سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔"
وہ دونوں آگے بڑھے یہاں تک کہ ایک ندی کے کنارے پہنچے۔ وہاں ایک چھوٹا سا بچہ مٹی کے گھروندے بنا رہا تھا۔ اچانک ایک لہر آئی اور اس کا گھروندا بہا لے گئی۔ بچہ رویا نہیں، بلکہ ہنس کر دوبارہ مٹی اکٹھی کرنے لگا۔ بابا نے شاہد کی طرف اشارہ کیا اور کہا، "دیکھو! اس بچے کے پاس 'کھونے' کا ڈر نہیں ہے۔ ہم بڑے اس لیے دکھی ہیں کیونکہ ہم چیزوں کے مالک بننا چاہتے ہیں، جبکہ حقیقت میں ہم یہاں صرف مسافر ہیں۔"
شاہد کو سمجھ آنے لگا تھا کہ اصل خوشی چیزوں کو اکٹھا کرنے میں نہیں، بلکہ لمحے کو جینے میں ہے۔
واپسی کے سفر پر بابا نے شاہد کو ایک سوکھا ہوا پودا دکھایا۔ بابا نے اپنے پاس موجود کوزے سے تھوڑا سا پانی اس کی جڑوں میں ڈالا۔ بابا بولے، "شاہد! زندگی میں خوشی پانے کا دوسرا بڑا راز 'تقسیم' کرنا ہے۔ تمہارے پاس جو کچھ بھی ہے—چاہے وہ علم ہو، دولت ہو یا صرف ایک مسکراہٹ—اسے دوسروں کو دینا شروع کرو۔ جب تم دوسروں کے زخموں پر مرہم رکھتے ہو، تو تمہارے اپنے زخم خود بخود بھرنے لگتے ہیں۔"
شاہد نے اس دن تہیہ کر لیا کہ وہ اپنی زندگی کے ڈھنگ بدل دے گا۔ وہ جب بستی واپس پہنچا تو وہ پرانا شاہد نہیں تھا جو پریشان حال آیا تھا۔ اس کا چہرہ دمک رہا تھا۔
حاصلِ کلام:
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ زندگی کا بوجھ جتنا کم ہوگا، سفر اتنا ہی آسان ہوگا۔ دوسروں سے امیدیں وابستہ کرنے کے بجائے دوسروں کے لیے امید بننا ہی اصل زندگی ہے۔ خوشی باہر کی دنیا میں نہیں، بلکہ انسان کے اندر کے سکون اور اس کے اعمال میں چھپی ہوتی ہے۔
اگر ہم اپنی زندگی سے حسد، لالچ اور ماضی کے بوجھ کو نکال پھینکیں، تو ہمارا دل بھی بابا فرید کے دل کی طرح سکون کا گہوارہ بن سکتا ہے۔
اگر آپکو یہ پوسٹ اچھی لگی تو آپ ہمیں فالو کر سکتے تا کہ مزید آپکو ایسی پوسٹ پڑھنے کا موقع nhi ملے
Comments
Post a Comment