روح کی تڑپ اور وہ آخری خط








اس ڈائری کا ہر پنہ ایک نیا زخم کھول رہا تھا۔ زویا نے لکھا تھا کہ کیسے اس کے گھر والے اسے اس شہر سے بہت دور لے جا رہے ہیں۔ اس کی شادی کسی ایسے شخص سے طے کر دی گئی تھی جسے اس نے کبھی دیکھا تک نہیں تھا۔ وہ اپنی آزادی اور اپنی محبت کے لیے لڑنا چاہتی تھی، لیکن اپنوں کی دہائی کے آگے وہ ہار گئی۔

میں نے اس رات پوری ڈائری پڑھ ڈالی۔ اس میں ہماری ان تمام ملاقاتوں کا ذکر تھا، جنہیں میں بھول چکا تھا۔ اس نے لکھا تھا کہ کیسے میری ہنسی اسے زندہ رہنے کا حوصلہ دیتی تھی۔ ڈائری کے آخری پنے پر ایک پتہ لکھا تھا— ایک ایسا گاؤں جو نقشے پر بھی مشکل سے ملتا تھا۔

میں نے طے کیا کہ میں اسے ڈھونڈوں گا۔ اگلی صبح کی پہلی بس پکڑ کر میں اس انجان سفر پر نکل پڑا۔ راستے بھر بس کی کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے مجھے صرف اس کا چہرہ نظر آ رہا تھا۔ دل میں ڈر تھا، امنگ تھی اور ایک عجیب سی بے چینی۔

جب میں اس پتے پر پہنچا، تو وہاں سناٹا تھا۔ ایک پرانا مکان، جس کی دیواریں اب گر رہی تھیں۔ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا، تو ایک بوڑھی عورت باہر آئی۔ میں نے زویا کا نام لیا، تو ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ انہوں نے مجھے اندر بلایا اور ایک صندوق کی طرف اشارہ کیا۔

اس صندوق کے اندر وہی رس ملائی کے ڈبے تھے جو ہمیں پسند تھے، لیکن اب وہ سوکھ چکے تھے۔ زویا وہاں نہیں تھی، لیکن اس کی روح اس کمرے کے ذرے ذرے میں بسی تھی۔ اس نے میرے لیے ایک آخری خط چھوڑا تھا، جس میں لکھا تھا: "ایان، محبت حاصل کرنا ہی منزل نہیں ہوتی، کبھی کبھی دور رہ کر اس شدت کو برقرار رکھنا ہی اصلی عشق ہے۔ میں جہاں بھی رہوں، تمہارے الفاظوں میں زندہ رہوں گی۔"

آج برسوں بعد بھی، جب میں 'الفاظ' پیج پر کچھ لکھتا ہوں، تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ زویا کہیں نہ کہیں ان لفظوں کو پڑھ کر مسکرا رہی ہے۔ وہ ادھوری ملاقات ہی میری زندگی کی سب سے مکمل داستاں بن گئی۔

کیسی لگی یے اسٹوری کمینٹ کرکے ضرور بتائیں 

Comments

Popular posts from this blog

​عنوان: صبر کا دامن اور وفا کا صلہ: ایک غریب یتیم کی سچی داستاں

شبِ برات کی حقیقت: مستند احادیث اور اکابرین کی روشنی میں

شب براءت: فضائل، مسائل اور اصلاحِ معاشرہ کا ایک جامع مطالعہ