وہ تیسرا کون تھا؟ (ایک سچی اور خوفناک داستان)


A visceral and emotional horror scene in a dimly lit, ancient stone temple or crypt. A young man, terrified, holds up a glowing magical crystal that casts intricate sparkling light. In the deep shadows behind him, a massive, multi-limbed demonic creature with fiery red eyes is emerging from the darkness. Ancient moss-covered pillars and scattered dust motes complete the eerie atmosphere

وہ رات آج بھی میری زندگی کی سب سے خوفناک راتوں میں سے ایک ہے۔ جب بھی اس واقعے کو یاد کرتا ہوں تو جسم میں سنسنی دوڑ جاتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ لمحے ابھی بھی میرے آس پاس کہیں موجود ہیں۔

یہ واقعہ تقریباً دو سال پہلے کا ہے۔ میں اور میرا دوست اسلم ایک لمبے سفر پر تھے۔ ہم دونوں ایک دور دراز شہر سے واپس آ رہے تھے۔ رات کافی گزر چکی تھی اور سڑکیں تقریباً سنسان ہو چکی تھیں۔ تھکن اتنی زیادہ تھی کہ گاڑی چلانا بھی مشکل ہو رہا تھا۔

یے بھی پڑھیں 

https://alfaazcontact781.blogspot.com/2026/01/betrayal-meaning-in-hindi.html

کافی دیر تلاش کرنے کے بعد ہمیں ایک پرانا سا سرکاری گیسٹ ہاؤس نظر آیا۔ عمارت کافی پرانی تھی اور اردگرد عجیب سی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ دروازے کے پاس ایک بوڑھا چوکیدار بیٹھا ہوا تھا۔

ہم نے اس سے ایک کمرہ مانگا۔ اس نے ہمیں غور سے دیکھا اور آہستہ سے بولا:

"کمرہ تو مل جائے گا صاحب، مگر رات یہاں گزارنا آسان نہیں ہوتا۔"

ہم دونوں نے اس بات کو مذاق سمجھا اور ہنس کر نظر انداز کر دیا۔ اس نے ہمیں دوسری منزل پر ایک کمرہ دے دیا۔

کمرے کا دروازہ کھولتے ہی ایک عجیب سی ٹھنڈی ہوا اندر آئی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے یہ کمرہ کافی عرصے سے بند پڑا ہو۔ دیواروں پر ہلکی ہلکی دراڑیں تھیں اور فرنیچر بھی بہت پرانا تھا۔

ہم نے سوچا تھوڑی دیر آرام کر لیتے ہیں۔ اسلم نے بیگ ایک طرف رکھا اور میں نے بستر صاف کیا۔ بجلی بھی بار بار جا رہی تھی اس لیے ہم نے احتیاط کے طور پر ایک موم بتی جلا لی۔

کمرے میں موم بتی کی مدھم روشنی پھیل گئی۔ باہر رات کی خاموشی اور اندھیرے نے ماحول کو مزید پراسرار بنا دیا تھا۔

ہم دونوں باتیں کرتے کرتے اچانک خاموش ہو گئے۔ ایسا لگا جیسے کمرے کے کسی کونے سے ہلکی سی آواز آئی ہو۔

میں نے اسلم سے کہا:

"تم نے کچھ سنا؟"

اسلم نے سر ہلا کر کہا:

"نہیں… شاید تمہیں وہم ہوا ہوگا۔"

ہم نے دوبارہ باتیں شروع کر دیں مگر کچھ ہی دیر بعد وہی آواز دوبارہ سنائی دی۔ اس بار ایسا لگا جیسے کوئی آہستہ آہستہ چل رہا ہو۔

میرے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔

اسی دوران جیسے ہی موم بتی کی روشنی کمرے کے اندھیرے کونے پر پڑی، میری روح کانپ گئی۔

وہاں کوئی انسان موجود نہیں تھا، لیکن دیوار پر ایک بہت بڑا اور خوفناک سایہ لہراتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔

اس سائے کے ہاتھ غیر فطری طور پر لمبے تھے اور انگلیاں پنجوں کی طرح مڑی ہوئی تھیں۔

اسلم نے ہمت کر کے اونچی آواز میں پوچھا:

"کون ہے وہاں؟"

چند لمحے مکمل خاموشی چھائی رہی۔

پھر اچانک ایک سرد اور گہری ہنسی کمرے میں گونج گئی۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے یہ آواز دیواروں کے پار سے آ رہی ہو۔

ہم دونوں کے جسم میں خوف کی لہر دوڑ گئی۔

اسی لمحے موم بتی اچانک بجھ گئی۔

کمرہ مکمل اندھیرے میں ڈوب گیا۔

ہم دونوں کو اپنے بالکل قریب کسی کے سانس لینے کی آواز سنائی دینے لگی۔

ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی ہمارے بالکل پیچھے کھڑا ہو۔

ایک ٹھنڈی ہوا کا جھونکا میرے گلے سے ٹکرایا۔ میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔

میں نے فوراً اپنا موبائل نکالا اور ٹارچ آن کر دی۔

جیسے ہی روشنی پورے کمرے میں پھیلی، ایک عجیب منظر ہمارے سامنے تھا۔

کھڑکی خود بخود آہستہ آہستہ کھلنے لگی۔

باہر سے ٹھنڈی دھند کمرے میں داخل ہونے لگی۔

کمرے میں ہمیں کوئی تیسرا شخص نظر نہیں آ رہا تھا۔

مگر فرش پر گیلی مٹی کے پیروں کے نشان واضح طور پر نظر آ رہے تھے۔

یہ نشان دروازے سے شروع ہو کر سیدھے ہمارے بستر کی طرف جا رہے تھے۔

میرے ہاتھ کانپنے لگے۔

اسلم نے دھیمی آواز میں کہا:

"یہ… یہ کیسے ممکن ہے؟ یہاں تو کوئی آیا ہی نہیں۔"

ہم دونوں اب بری طرح خوفزدہ ہو چکے تھے۔

ہم نے فوراً کمرے سے باہر نکلنے کا فیصلہ کیا۔

ہم دوڑتے ہوئے سیڑھیاں اترے اور گاڑی کی طرف بھاگنے لگے۔

راستے میں وہی بوڑھا چوکیدار ہمیں دوبارہ ملا۔

اس نے ہمیں دیکھتے ہی پوچھا:

"کیا ہوا صاحب؟"

ہم نے ہانپتے ہوئے اسے ساری بات بتائی۔

چوکیدار نے کچھ دیر خاموش رہ کر ایک ٹھنڈی آہ بھری۔

پھر آہستہ سے بولا:

"صاحب… اس کمرے کی ایک پرانی کہانی ہے۔"

ہم دونوں خاموشی سے اس کی بات سننے لگے۔

اس نے بتایا:

"بیس سال پہلے اسی کمرے میں ایک مسافر کا قتل ہوا تھا۔ قاتل کبھی پکڑا نہیں گیا۔ کہتے ہیں کہ اس مسافر کی روح آج بھی اسی کمرے میں بھٹکتی ہے۔"

میرے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔

چوکیدار نے مزید کہا:

"وہ ہمیشہ کسی تیسرے کا انتظار کرتا ہے… تاکہ اسے اپنے ساتھ لے جا سکے۔"

یہ سن کر ہمارے ہوش اڑ گئے۔

ہم فوراً گاڑی میں بیٹھے اور وہاں سے نکل گئے۔

لیکن اس رات کے بعد ایک عجیب بات ہونے لگی۔

جب بھی میں رات کو اکیلا ہوتا ہوں، مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی میرے پیچھے کھڑا ہو۔

کبھی کبھی مجھے وہی سرد آواز سنائی دیتی ہے:

"کیا تم نے مجھے بلایا؟"

آج تک مجھے یہ سمجھ نہیں آیا کہ وہ صرف ایک وہم تھا… یا واقعی وہاں کوئی تیسرا موجود تھا۔

اگر آپ کے ساتھ بھی کبھی کوئی ایسا پراسرار واقعہ پیش آیا ہو تو ضرور بتائیں۔

کیونکہ کچھ کہانیاں صرف کہانیاں نہیں ہوتیں…
وہ حقیقت کے بہت قریب ہوتی ہیں۔


اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)

سوال 1: کیا یہ کہانی سچی ہے؟
یہ ایک حقیقی تجربے سے متاثر ہو کر لکھی گئی خوفناک کہانی ہے۔

سوال 2: کیا واقعی ایسی پراسرار چیزیں موجود ہوتی ہیں؟
بہت سے لوگ ایسے واقعات کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن ہر واقعے کی سائنسی وضاحت بھی ہو سکتی ہے۔

سوال 3: کیا پرانی عمارتوں میں ایسے واقعات زیادہ ہوتے ہیں؟
زیادہ تر خوفناک کہانیاں پرانی اور سنسان جگہوں سے جڑی ہوتی ہیں کیونکہ وہاں ماحول زیادہ پراسرار ہوتا ہے 


💬 آپ کو یہ کہانی کیسی لگی؟
کمنٹ میں ضرور بتائیں اور اگر پسند آئے تو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔

یے بھی ضرور پڑھیں 

https://alfaazcontact781.blogspot.com/2026/01/shiddat.html

Comments

Popular posts from this blog

​عنوان: صبر کا دامن اور وفا کا صلہ: ایک غریب یتیم کی سچی داستاں

شبِ برات کی حقیقت: مستند احادیث اور اکابرین کی روشنی میں

شب براءت: فضائل، مسائل اور اصلاحِ معاشرہ کا ایک جامع مطالعہ