عصرِ حاضر میں مسلم نوجوان اور تعلیمی پسماندگی: ایک لمحہ فکریہ




السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ دوستوں! آج میں آپکے سامنے کسی کہانی یے قِصّہ کا ذِکر نہیں کرنے والا بلکہ ایک ایسی کڑوی حقیقت بیان کرنے جا رہا ہوں جو ہمارے معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہی ہےـ ہم اُس قوم سے تعلق رکھتے ہیں جسکی بنیاد ہی علم پر رکھی گئ تھی لیکن افسوس کے
آج تعلیمی میدان میں ہمارا نوجوان سب سے پیچھے کھڑا ہے آخر یہ کیوں ہوا اور ہم اِس دلدل سے کیسے -نکل سکتے ہیں ؟ آئیے اسی پر تفصیل سے بات کرتے ہیں

تمہید: علم اور ہماری وراثت

​انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جس قوم نے علم و حکمت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا، دنیا کی قیادت اسی کے حصے میں آئی۔ اسلام کی بنیاد ہی "اقرأ بسم رببك الذى خلق" (پڑھ) پر رکھی گئی، جس نے ایک بدوی معاشرے کو علم کی ایسی روشنی دی جس نے صدیوں تک پوری دنیا کو منور کیا۔ لیکن آج کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ وہی قوم، جس کا طره‍ امتیاز علم و تحقیق تھا، آج تعلیمی میدان میں سب سے پیچھے کھڑی ہے۔ خاص طور پر مسلم نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی تعلیمی پسماندگی ایک ایسا ناسور بن چکی ہے جو ہماری سماجی اور اقتصادی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہی ہے۔

تاریخ کا آئینہ: ہم کیا تھے اور کیا ہو گئے؟

​ایک وقت تھا جب بغداد، قرطبہ اور نیشاپور کی لائبریریاں علم کا مرکز ہوا کرتی تھیں۔ ابنِ سینا، الخوارزمی، ابنِ ہیثم اور جابر بن حیان جیسے مسلم سائنسدانوں نے طب، ریاضی، بصریات اور کیمیا میں وہ بنیادیں فراہم کیں جن پر جدید سائنس کی عمارت کھڑی ہے۔ اس دور میں مسلمان ہونا علم کا مترادف سمجھا جاتا تھا۔

​مگر افسوس! آج صورتحال اس کے برعکس ہے۔ عالمی اعداد و شمار ہوں یا مقامی سروے، مسلمانوں کا تعلیمی گراف مسلسل نیچے کی طرف جا رہا ہے۔ اسکولوں سے بھاگنے کی شرح (Dropout rate) سب سے زیادہ مسلمانوں میں ہے، اور اعلیٰ تعلیم (Higher Education) تک پہنچنے والے مسلم نوجوانوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر رہ گئی ہے۔

تعلیمی پسماندگی کے بنیادی اسباب

​مسلم نوجوانوں کے تعلیمی میدان میں پیچھے رہنے کی وجوہات کثیر الجہتی ہیں:

  1. معاشی بدحالی اور غربت: مسلم معاشرے کا ایک بڑا حصہ خطِ غربت سے نیچے یا اس کے قریب زندگی گزار رہا ہے۔ اکثر گھرانوں میں والدین بچوں کو اسکول بھیجنے کے بجائے چھوٹی عمر میں ہی کام پر لگانے کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ گھر کا چولہا جل سکے۔ تعلیم کو ایک "سرمایہ کاری" کے بجائے ایک "بوجھ" سمجھا جانے لگا ہے۔
  2. مقصدِ حیات سے دوری اور رہنمائی کا فقدان: آج کے نوجوان کو یہ معلوم ہی نہیں کہ وہ پڑھ کیوں رہا ہے۔ کیریئر کونسلنگ کی کمی کی وجہ سے نوجوان روایتی شعبوں تک محدود رہتے ہیں یا پھر مایوسی کا شکار ہو کر پڑھائی ادھوری چھوڑ دیتے ہیں۔ انہیں یہ سمجھانے والا کوئی نہیں کہ تعلیم صرف نوکری کے لیے نہیں، بلکہ شعور اور وقار کے لیے ضروری ہے۔
  3. سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل ڈسٹرکشن: ٹیکنالوجی جہاں ایک نعمت ہے، وہیں ہمارے نوجوانوں کے لیے ایک بہت بڑی رکاوٹ بھی بن گئی ہے۔ گھنٹوں ریلز (Reels) دیکھنا، آن لائن گیمز میں وقت ضائع کرنا اور سوشل میڈیا کی مصنوعی دنیا میں کھو جانا نوجوانوں کی ذہنی صلاحیتوں کو زنگ لگا رہا ہے۔ تعمیری کاموں کے بجائے وقت کا زیاں ہمارا سب سے بڑا دشمن بن چکا ہے۔
  4. تعلیمی اداروں کا معیار اور ماحول: مسلم اکثریتی علاقوں میں سرکاری اسکولوں کی حالت زار اور پرائیویٹ اداروں کی مہنگی فیسوں نے تعلیم کو عام آدمی کی پہنچ سے دور کر دیا ہے۔ مزید برآں، مدارس اور جدید اسکولوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج نے بھی نوجوانوں کو ذہنی طور پر تقسیم کر دیا ہے۔

جدید دور کے چیلنجز: کیا ہم تیار ہیں؟

​ہم ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جہاں ہر چند ماہ بعد ٹیکنالوجی بدل رہی ہے۔ آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI)، ڈیٹا سائنس، اور روبوٹکس کا دور شروع ہو چکا ہے۔ ایسے میں اگر مسلم نوجوان صرف بنیادی تعلیم یا پرانے طریقوں پر تکیہ کیے بیٹھے رہیں گے، تو وہ نہ صرف تعلیمی بلکہ معاشی طور پر بھی مفلوج ہو جائیں گے۔

​ہماری پسماندگی کی ایک بڑی اور اہم وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے خود کو "مظلومیت کے احساس" (Victim Complex) میں قید کر لیا ہے۔ ہم دوسروں کو اپنی ناکامی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، لیکن خود اپنی اصلاح کی طرف قدم نہیں بڑھاتے۔

حل کی طرف: واپسی کا راستہ کیا ہے؟

​اگر ہم واقعی اپنی حالت بدلنا چاہتے ہیں، تو ہمیں جذباتی نعروں سے نکل کر عملی اقدامات کرنے ہوں گے:

  • تعلیم کو اولین ترجیح بنانا: ہر مسلم خاندان کو یہ عہد کرنا ہوگا کہ چاہے آدھی روٹی کھانی پڑے، کھائیں گے لیکن بچوں کو تعلیم سے محروم نہیں رکھنا۔ تعلیم کو صدقہ جاریہ اور قومی فریضہ سمجھنا ہوگا۔
  • ٹیکنالوجی کا مثبت استعمال: نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اسمارٹ فون کا استعمال صرف تفریح کے لیے نہیں بلکہ سیکھنے کے لیے کریں۔ یوٹیوب، کورسیرا (Coursera) اور دیگر پلیٹ فارمز پر مفت علمی خزانے موجود ہیں۔ کوڈنگ، گرافک ڈیزائننگ، اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ جیسے ہنر سیکھ کر وہ اپنی تقدیر بدل سکتے ہیں۔
  • کمیونٹی سپورٹ سسٹم: صاحبِ ثروت مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ غریب اور ذہین طلبہ کے لیے اسکالرشپس اور کوچنگ سینٹرز کا جال بچھائیں۔ مساجد کو صرف نماز تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں تعلیمی رہنمائی کے مراکز میں تبدیل کیا جائے۔
  • ہنر مند تعلیم (Vocational Training): صرف ڈگریاں جمع کرنے کے بجائے ایسے ہنر سیکھے جائیں جن کی مارکیٹ میں مانگ ہے۔ اس سے بیروزگاری کا خاتمہ ہوگا اور نوجوان خود کفیل ہوں گے۔

اختتامیہ: اب نہیں تو کب؟

​مسلم نوجوانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ دنیا ان کی سابقہ عظمت کے قصیدوں سے متاثر نہیں ہوگی، بلکہ ان کی موجودہ قابلیت اور کردار کو دیکھ کر فیصلہ کرے گی۔ ہم ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑے ہیں۔ یا تو ہم علم کی شمع روشن کر کے دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلیں، یا پھر جہالت کے اندھیروں میں گم ہو کر تاریخ کا ایک بھولا بسرا باب بن جائیں۔

​یاد رکھیں، اللہ ربّ العزّت بھی اسی قوم کی حالت بدلتا ہے جو خود اپنی حالت بدلنے کی تڑپ رکھتی ہو۔ اے نوجوان! اٹھو، قلم سنبھالو اور اپنی کامیابی کی داستان خود اپنے ہاتھ سے لکھو۔

"دوستو! یہ تو صرف شروعات ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم مل کر اپنی قوم کے نوجوانوں میں تعلیم کا شعور بیدار کریں اور آپ کو روزانہ ایسی ہی فکر انگیز باتیں، موٹیویشن اور کام کی معلومات ملتی رہیں، تو ابھی میرے WhatsApp Channel کو جوائن کریں۔ آپ کا ایک کلک ہمارے اس مقصد کو مضبوط بنا سکتا ہے

Comments

Popular posts from this blog

​عنوان: صبر کا دامن اور وفا کا صلہ: ایک غریب یتیم کی سچی داستاں

شبِ برات کی حقیقت: مستند احادیث اور اکابرین کی روشنی میں

شب براءت: فضائل، مسائل اور اصلاحِ معاشرہ کا ایک جامع مطالعہ