افسانہ: "ادھورا بلاوا اور ٹھنڈی چوکھٹ" 💔

 







قصبے کی وہ پرانی حویلی اب صرف اینٹوں کا ڈھیر نہیں
، بلکہ رحمت چچا کی یادوں کا قبرستان بن چکی تھی۔ رحمت چچا، جن کی پوری زندگی اپنے اکلوتے بیٹے 'انس' کو پالنے پوسنے اور اسے شہر کا بڑا افسر بنانے میں گزر گئی تھی۔ ان کی بیوی کے انتقال کے بعد انس ہی ان کی کل کائنات تھا۔ انس شہر چلا گیا، بڑا آدمی بن گیا، اور پھر آہستہ آہستہ گاؤں کی ان کچی پگڈنڈیوں اور اپنے بوڑھے باپ کو بھول گیا۔

رحمت چچا کی آنکھوں کی روشنی دھندلی پڑ چکی تھی، پر ان کے سننے کی قوت آج بھی دروازے کی ہر آہٹ پر جاگ اٹھتی تھی۔ ہر روز صبح اٹھ کر وہ اپنی پھٹی ہوئی اچکن جھاڑتے، اپنی پرانی لاٹھی ٹیکتے اور گھر کی اس دہلیز پر بیٹھ جاتے جو اب ان کے انتظار کی گواہ بن چکی تھی۔ محلے کے لوگ گزرتے تو پوچھتے، "چچا! آج بھی امید ہے؟" وہ بس مسکرا دیتے اور کہتے، "میرا انس ضرور آئے گا، اس نے خط میں لکھا تھا۔" جبکہ حقیقت یہ تھی کہ انس کا آخری خط تین سال پہلے آیا تھا۔

کڑاکے کی ٹھنڈ پڑ رہی تھی۔ رحمت چچا کی چھاتی میں بلغم جم گیا تھا اور سانسیں اکھڑ رہی تھیں۔ پڑوس کے خلیل نے کہا، "چچا، چلیے حکیم جی کے پاس۔" رحمت چچا نے منع کر دیا، "نہیں میاں! اگر میں یہاں نہیں رہا اور میرا بیٹا آ گیا، تو وہ خالی گھر دیکھ کر لوٹ جائے گا۔ اسے ڈر لگے گا"۔ ان کی ممتا اور ضد کے آگے سب ہار گئے۔

اس رات برف جیسی ہوائیں چل رہی تھیں۔ رحمت چچا نے اپنی پرانی صندوق کھولی۔ اس میں انس کے بچپن کا پہلا جوتا، اس کی ٹوٹی ہوئی سلیٹ اور وہ گھڑی رکھی تھی جو ان کی مرحوم بیوی نے انس کے لیے بچا کر رکھی تھی۔ انہوں نے کانپتے ہاتھوں سے وہ گھڑی نکالی اور اسے سینے سے لگا لیا۔ ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ کر ان کی جھریوں والے گالوں پر جم رہے تھے۔ وہ بدبودا رہے تھے، "بیٹا... بس ایک بار دیدار کرا دے... پھر بھلے ہی موت آ جائے"۔

اچانک آدھی رات کو ایک عالیشان گاڑی حویلی کے باہر رکی۔ دروازہ کھلا اور انس باہر نکلا۔ اس کے ساتھ اس کی شہر والی بیوی اور بچے تھے۔ انس کو اچانک اپنے آبائی گھر کی یاد نہیں آئی تھی، بلکہ اسے شہر میں ایک نیا بنگلہ خریدنا تھا اور اس کے لیے اسے گاؤں کی یہ زمین اور حویلی بیچنی تھی۔ وہ صرف انگوٹھا لگوانے آیا تھا۔

وہ جیسے ہی اندر داخل ہوا، اس نے دیکھا کہ رحمت چچا چوکھٹ پر گرے پڑے تھے۔ انس نے انہیں ہلایا، "ابا! اٹھئیے! دیکھیے میں آیا ہوں"۔ رحمت چچا کی آنکھیں آہستہ سے کھلیں۔ ان کے ہونٹوں پر ایک ایسی مسکراہٹ تھی جو شاید جنت کے دروازے پر بھی نہ ملے۔ انہوں نے انس کا چہرہ چھوا، ان کے ٹھنڈے ہاتھ انس کے گالوں پر تھے۔ رحمت چچا نے بہت مشکل سے اپنی جیب سے وہ پرانی گھڑی نکالی اور انس کے ہاتھ میں تھما دی۔

وہ کچھ کہنا چاہتے تھے، لیکن ان کے گلے سے آواز نہیں نکل رہی تھی۔ بس ایک ہچکی آئی، اور ان کی گردن ایک طرف جھک گئی۔ انس نے چیخ کر کہا، "ابا! بات تو سنئیے! میں آ گیا ہوں!" پر اب سننے والا جا چکا تھا۔ رحمت چچا نے انتظار کا قرض اپنی جان دے کر چکا دیا تھا۔

انس کی بیوی پیچھے سے آئی اور بولی، "جلدی کیجیے، ہمیں صبح تک واپس شہر پہنچنا ہے۔ کاغذات پر ان کے دستخط یا انگوٹھا لیجیے"۔ انس نے اپنے باپ کے بے جان ہاتھ کی انگلیوں کو دیکھا، جن میں اب بھی وہ گھڑی کسی ہوئی تھی۔ اسے احساس ہوا کہ اس نے کیا کھو دیا ہے۔ وہ باپ جو بھوک برداشت کر لیتا تھا پر بیٹے کو کبھی بھوکا نہیں سونے دیا، وہ آج اپنے ہی بیٹے کے لالچ کی بلی چڑھ گیا تھا۔

اس رات انس کے شور اور رونے کی آوازیں پوری حویلی میں گونجتی رہیں، پر وہ بوڑھا باپ اب خاموش ہو چکا تھا۔ وہ چوکھٹ، جو سالوں تک رحمت چچا کی امید کا سہارا تھی، آج ان کے جنازے کی گواہ بننے والی تھی۔

ایسی ہی مزید دردناک اور ایمان افروز کہانیاں اپنے واٹس ایپ پر پانے کے لیے ہمارے چینل کو فالو کریں:

Follow the Alfaz By Salman channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029VbBqr6T
4o7qNAKAwWO10



Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

​عنوان: صبر کا دامن اور وفا کا صلہ: ایک غریب یتیم کی سچی داستاں

شبِ برات کی حقیقت: مستند احادیث اور اکابرین کی روشنی میں

شب براءت: فضائل، مسائل اور اصلاحِ معاشرہ کا ایک جامع مطالعہ