عنوان: صبر کا دامن اور وفا کا صلہ: ایک غریب یتیم کی سچی داستاں
دوستوں کیسے ہیں آپ سب؟ اُمید ہے کہ آپ سب اللہ کے فضل و کرم سے خیرو عافیت سے ہونگےـ
آج میں آپکے لیئے حقیقت پر مبنی ایک ایسی ایمان افروز کہانی لیکر آیا ہوں، جسے پڑھنے کے بعد آپکی سوچ بدل جائیگی اور آپ کبھی زندگی میں مایوس نہیں ہونگے انشاء االلہ
تمہید:
آج کی اس بھاگ دوڑ بھری زندگی میں ہم اکثر سکون کی تلاش میں ادھر ادھر بھٹکتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں
کہ اصلی اطمینان عالیشان محلوں میں نہیں، بلکہ صاف نیت اور ایمانداری میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ آج کی یہ کہانی ایک ایسے ہی چھوٹے سے لڑکے 'عادل' کی ہے، جس نے اپنی مفلسی کو اپنی کمزوری نہیں، بلکہ اپنی طاقت بنایا۔عادل کی بے بسی اور اس کے بلند حوصلے
شہر کے ایک پُر آشوب کونے میں بسی ایک تنگ گلی میں عادل اپنی بوڑھی ماں کے ساتھ رہتا تھا۔ عادل کے سر سے والد کا سایہ بچپن میں ہی اٹھ گیا تھا۔ اس کی ماں دوسروں کے گھروں میں کام کاج کر کے جیسے تیسے گھر کا چولہا جلاتی تھی۔ عادل کا دل تو پڑھنا لکھنا چاہتا تھا، لیکن گردشِ ایام نے اس کے معصوم ہاتھوں میں کتابوں کی جگہ اخبار کی گڈیاں تھما دی تھیں۔ وہ فجر کی اذان کے ساتھ ہی اٹھ کر گلیوں میں اخبار بانٹتا تاکہ اپنی ضعیف ماں کا ہاتھ بٹا سکے۔
ایک روز کڑاکے کی سردی تھی۔ عادل اپنی پرانی اور پیوند لگی چادر اوڑھے اخبار بانٹ رہا تھا۔ تبھی اسے سڑک کے کنارے ایک قیمتی چمڑے کا بیگ ملا۔ اس نے جب بیگ کھولا تو اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ اس میں روپوں کی گڈیاں اور کچھ بہت ہی اہم دستاویزات تھیں۔ اتنے پیسے عادل نے اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھے تھے۔
انسانیت اور ایمانداری کا امتحان
عادل کے ذہن میں ایک پل کے لیے خیال آیا کہ ان پیسوں سے وہ اپنی ماں کا اعلیٰ علاج کرا سکتا ہے، نئے لباس خرید سکتا ہے اور واپس مدرسے یا اسکول جا سکتا ہے۔ لیکن تبھی اسے اپنی ماں کی دی ہوئی تربیت یاد آئی: "بیٹا! نوالہ چاہے آدھا ملے، لیکن وہ 'حلال' کا ہونا چاہیے۔ حرام کی لذت انسان کے ضمیر کو مردہ کر دیتی ہے۔"
اس نے فوراً بیگ بند کیا اور اس میں ملے ایک کارڈ پر لکھے پتے کی تلاش میں نکل پڑا۔ وہ پتہ شہر کے ایک بہت بڑے اور نیک دل تاجر 'حاجی صاحب' کا تھا۔ جب عادل ان کے بنگلے پر پہنچا، تو وہاں کہرام مچا تھا۔ حاجی صاحب نہایت پریشان تھے کیونکہ اس بیگ میں ان کی کمپنی کے برسوں پرانے اور قانونی کاغذات تھے۔
وفاداری کا صلہ
جب عادل نے وہ بیگ حاجی صاحب کے سامنے رکھا، تو ان کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ انہوں نے بیگ چیک کیا، ایک ایک پائی اور ہر کاغذ اپنی جگہ موجود تھا۔ حاجی صاحب نے عادل کو انعام کے طور پر بھاری رقم دینی چاہی، لیکن عادل نے بہت ہی انکساری سے منع کر دیا۔ اس نے کہا، "صاحب! یہ میرا فرض تھا، کوئی احسان نہیں۔ میری ماں کہتی ہے کہ ایمانداری کی کوئی قیمت نہیں لگائی جا سکتی۔"
حاجی صاحب عادل کی اس بات سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے خود اس کے گھر جانے کا فیصلہ کیا۔ جب انہوں نے عادل کی غربت اور اس کی ماں کی حالت دیکھی، تو ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ انہوں نے اسی وقت اعلان کیا کہ عادل کی تعلیم کا سارا اخراجات وہ اٹھائیں گے اور اس کی ماں کے علاج کی مکمل ذمہ داری بھی ان کی ہوگی۔
سبق (Moral)
سالوں بعد، وہی اخبار بانٹنے والا عادل اپنی محنت، لیاقت اور ایمانداری کی بدولت اسی شہر کا ایک بڑا اعلیٰ افسر بنا۔ وہ آج بھی فخر سے کہتا ہے کہ اگر اس دن وہ ان چند روپوں کے لالچ میں آ جاتا، تو شاید آج وہ اس مقام پر نہ ہوتا۔
نتیجہ:
زندگی میں جب بھی آپ کو لگے کہ ایمانداری کی راہ دشوار ہے، تو یاد رکھئے کہ جھوٹ اور فریب آپ کو منزل تک تو لے جا سکتا ہے، لیکن وہاں آپ کو 'وقار' اور 'سکون' میسر نہیں ہوگا۔ صبر کا پھل ہمیشہ میٹھا ہوتا ہے۔
اگر آپکو یے تحریر پسند آئی ہے تو اسے اپنے دوستوں اور رشتہِ دارو کے ساتھ ضرور شیئر کریں ـ
"ایمان افروز باتیں، سچی کہانیاں، حالاتِ حاضرہ اور ہنسی مذاق کی فوری اپڈیٹس کے لیے مجھے واٹس ایپ پر فالو کریں۔ نیچے دیے گئے لنک پر کلک کر کے ابھی واٹس ایپ چینل جوائن کریں۔"
Follow the Alfaz By Salman channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029VbBqr6T4o7qNAKAwWO10


Comments
Post a Comment