آخری پیغام


Aakhri-paigaam-urdu-story.jpg


ریحان کو اسپتال کی وہ راہداری آج بھی خواب میں دکھائی دیتی ہے۔ سفید دیواریں، دوائیوں کی بو، اور وہ بینچ جہاں بیٹھ کر وہ پوری رات جاگتا رہا تھا۔ ہاتھ میں موبائل تھا، لیکن دل میں خوف۔

ڈاکٹر نے کہا تھا:

"ہم پوری کوشش کر رہے ہیں… دعا کریں۔"

وہ دعا ہی تو کر رہا تھا۔

صرف دعا۔

عائشہ کو حادثہ شام سات بجے ہوا تھا۔ بارش میں اسکوٹر پھسل گیا، ٹرک سے ٹکرا گئی۔ سر پر چوٹ آئی تھی۔ ہوش میں نہیں تھی۔

ریحان نے اس کے ہاتھ کو پکڑا۔

ٹھنڈا ہو رہا تھا۔

"عائشہ… آنکھیں کھولو نا۔ بس ایک بار دیکھ لو مجھے۔"

لیکن وہ خاموش تھی۔

ایسی خاموشی جو چیخ بن جاتی ہے۔

ریحان اور عائشہ کی محبت کوئی فلمی نہیں تھی۔ نہ گلاب، نہ پرپوز ڈے، نہ بڑے وعدے۔ بس روز کا ساتھ تھا۔ یونیورسٹی سے واپسی پر ایک ہی بس، ایک ہی اسٹاپ۔ ریحان ہمیشہ کہتا:

"تمہاری ہنسی میری تھکن اتار دیتی ہے۔"

عائشہ جواب دیتی:

"اور تمہاری خاموشی مجھے ڈرا دیتی ہے۔ کچھ بولا کرو۔"

وہ دونوں مستقبل کی باتیں کم کرتے تھے، کیونکہ حال ہی بہت پیارا تھا۔

اس دن بھی عائشہ نے جاتے ہوئے کہا تھا:

"ریحان، کل امی کے لیے دوا لینی ہے۔ یاد رہے گا؟"

ریحان ہنسا تھا:

"تمہیں کیا لگتا ہے میں بھول جاؤں گا؟"

کاش وہ جانتا… کہ یہ آخری بات ہے۔

رات کے دو بجے ڈاکٹر باہر آیا۔

چہرے پر وہی خاموشی تھی جو بری خبر سے پہلے آتی ہے۔

"ہم بچا نہیں سکے۔"

بس اتنا کہا۔

زیادہ کچھ نہیں۔

ریحان کو لگا جیسے کسی نے اس کے سینے سے سانس کھینچ لی ہو۔ آواز نکلی، لیکن لفظ نہیں۔

لاش ملی۔

سفید چادر۔

وہی چہرہ جس پر کبھی ہنسی رہتی تھی۔

اس کے موبائل پر ایک نوٹیفکیشن جگمگا رہا تھا۔

عائشہ – Voice Note (Recorded at 6:42 PM)

ریحان کے ہاتھ کانپنے لگے۔

پلے کیا۔

"ریحان… میں تمہیں ایک بات بتانا چاہتی تھی۔

آج نہیں تو کل، لیکن کہنا ہی تھا۔

مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے…

پتا نہیں کب، کیسے… بس ہو گئی ہے۔

اور ہاں، اگر میں کبھی نہ کہہ پاؤں تو سمجھ لینا، میری خاموشی بھی تمہارے نام تھی۔"

وہ بیٹھ گیا۔

زمین پر۔

"نہیں… نہیں یار… ایسے نہیں۔"

اس رات وہ گھر نہیں گیا۔ وہ اسپتال کے باہر ہی بیٹھا رہا۔ جیسے اگر وہ گیا تو عائشہ واقعی مر جائے گی۔

جنازہ ہوا۔ لوگ آئے۔ روئے۔ چلے گئے۔

ریحان وہیں کا وہیں تھا۔

دن بدلنے لگے۔

لیکن وقت نہیں۔

وہ ہر روز عائشہ کی چیٹ کھولتا۔

اس کے بھیجے ہوئے "Good morning" پڑھتا۔

پھر جواب لکھتا…

لیکن سینڈ نہیں کرتا۔

"اچھا کیا تم نے دوا لے لی؟"

"آج بارش ہو رہی ہے، اسکارف پہن لینا۔"

مہینے گزر گئے۔

عائشہ کی ماں ایک دن اس کے پاس آئی۔

کہا:

"بیٹا، یہ اس کی ڈائری تھی۔ شاید تم پڑھ سکو۔ ہم نہیں پڑھ پا رہے۔"

ریحان نے ڈائری کھولی۔

آخری صفحے پر لکھا تھا:

"اگر میں کسی دن نہ رہوں،

تو ریحان کو کہنا

میں نے اسے سب سے زیادہ چاہا۔

لیکن کبھی جتا نہ سکی۔

کیونکہ ڈر لگتا تھا،

کہ وہ ہنس دے گا

یا خاموش ہو جائے گا۔"

ریحان رویا نہیں۔

وہ اندر سے ٹوٹا۔

ایک سال بعد ریحان کی شادی کی بات چلی۔

ماں نے کہا:

"بیٹا، زندگی رکتی نہیں۔"

وہ کچھ نہ بولا۔

شادی ہو گئی۔ اچھی لڑکی تھی۔ سمجھدار تھی۔

لیکن ہر رات ریحان بالکنی میں جا کر فون نکالتا…

اور عائشہ کی آخری آواز سنتا۔

اس کی بیوی نے ایک دن پوچھا:

"تم کس سے بات کرتے ہو روز؟"

وہ بولا:

"ایک یاد سے۔"

پھر خاموش ہو گیا۔

کچھ سال بعد، ریحان کا بیٹا ہوا۔

اس نے نام رکھا: آیان۔

لوگ پوچھتے:

"یہ نام کیوں؟"

وہ مسکرا دیتا۔

صرف وہ جانتا تھا:

Ayan = Ayesha + Rehan

ایک شام وہ اپنے بیٹے کو لے کر قبرستان گیا۔

قبر کے پاس بیٹھ کر کہا:

"عائشہ… دیکھو، میں نے جینا سیکھ لیا ہے۔

لیکن تمہیں بھلانا نہیں۔

کیونکہ کچھ محبتیں

زندگی نہیں بنتیں…

یاد بن جاتی ہیں۔"

ہوا چلی۔

پتے ہلے۔

جیسے کسی نے آہستہ سے کہا ہو:

"میں یہاں ہوں۔"

ریحان نے آنکھیں بند کیں۔

اور پہلی بار رویا۔

اگر آپ کو یہ کہانی پسند آئی ہو تو ہمیں فالو کریں، ایسی ہی مزید دل کو چھو لینے والی کہانیوں کے لیے ہمارے ساتھ جڑے رہیں۔”

🌟 हमसे जुड़ें (Official Channels) 🌟

Halat-e-Hazra, Motivation और Funny Stories के लिए आज ही जॉइन करें!

Comments

Popular posts from this blog

​عنوان: صبر کا دامن اور وفا کا صلہ: ایک غریب یتیم کی سچی داستاں

شبِ برات کی حقیقت: مستند احادیث اور اکابرین کی روشنی میں

شب براءت: فضائل، مسائل اور اصلاحِ معاشرہ کا ایک جامع مطالعہ