میرے باپ کی آخری نصیحت

 



بارش ہلکی ہلکی برس رہی تھی۔ گلی کی مٹی سے ایک عجیب سی خوشبو اٹھ رہی تھی، جیسے زمین بھی سانس لے رہی ہو۔ علی کھڑکی کے پاس بیٹھا بارش کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک پرانا خط تھا، جو وہ پچھلے دس سال سے سنبھال کر رکھے ہوئے تھا۔

یہ خط اس کے باپ کا تھا۔

علی کے باپ کو گزرے دس سال ہو چکے تھے، مگر اس خط کی سیاہی ابھی تک تازہ لگتی تھی۔ شاید اس لیے کہ علی نے اسے کبھی دل سے پرانا ہونے ہی نہیں دیا تھا۔

“بیٹا،

اگر کبھی میں تمہارے پاس نہ رہوں، تو یہ مت سمجھنا کہ میں تمہیں چھوڑ گیا ہوں۔ میں ہر اس جگہ ہوں گا جہاں تم ہمت کرو گے، سچ بولو گے اور کسی کمزور کا ساتھ دو گے۔”

علی نے آہستہ سے آنکھیں بند کیں۔ اس کا باپ ایک معمولی سا اسکول ٹیچر تھا، مگر اس کی باتیں کتابوں سے زیادہ بھاری ہوتی تھیں۔

آج علی کے پاس شہر کی بڑی کمپنی کی نوکری تھی۔ اچھا لباس، اچھا گھر، مگر دل میں عجیب سا خلا تھا۔ وہ اکثر سوچتا: “کیا میں واقعی وہ بن پایا ہوں جو ابّا چاہتے تھے؟”

اسی سوچ میں ڈوبا ہوا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔

“کون؟”

“میں ہوں… سلیم چاچا کا بیٹا، بلال۔”

علی نے دروازہ کھولا۔ سامنے ایک کمزور سا لڑکا کھڑا تھا، آنکھوں میں شرمندگی اور ہاتھ میں ایک پرانا سا تھیلا۔

“بھائی… چاچا بہت بیمار ہیں… دوا کے پیسے نہیں ہیں…”

علی کو یاد آیا، سلیم چاچا اس کے باپ کے دوست تھے۔ دونوں ایک ہی اسکول میں پڑھاتے تھے۔ علی نے بغیر کچھ کہے بلال کو اندر بٹھایا۔

چائے دی، حال پوچھا، اور الماری سے پیسے نکالنے لگا۔ مگر اچانک اس کی نظر میز پر رکھے باپ کے خط پر پڑی۔

اسے لگا جیسے ابّا کہہ رہے ہوں: “صرف پیسے دینا کافی نہیں ہوتا، بیٹا… کسی کا ہاتھ تھامنا بھی ضروری ہوتا ہے۔”

علی نے بلال سے کہا: “چلو، میں خود چاچا کو دیکھنے چلتا ہوں۔”

گلیاں ویسی ہی تھیں جیسے بچپن میں تھیں۔ مگر اب وہ گلیاں علی کو چھوٹی لگ رہی تھیں، شاید اس لیے کہ وہ خود بہت بدل گیا تھا۔

سلیم چاچا ایک ٹوٹی ہوئی چارپائی پر لیٹے تھے۔ آنکھیں بند تھیں، سانس بھاری تھا۔ علی کو دیکھ کر انہوں نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں۔

“علی…؟

تو واقعی آ گیا… تیرے ابّا آتے تھے نا ایسے ہی…”

یہ سن کر علی کا دل کانپ گیا۔

اس نے دوا منگوائی، ڈاکٹر بلایا، اور کچھ دن تک چاچا کے گھر آتا جاتا رہا۔ آہستہ آہستہ چاچا کی حالت بہتر ہونے لگی۔

ایک دن چاچا نے علی کا ہاتھ پکڑ کر کہا: “بیٹا… تیرا باپ مرنے سے پہلے کہتا تھا…

‘اگر علی نے انسان بننا سیکھ لیا، تو میں سکون سے مر جاؤں گا۔’”

علی کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

اس رات وہ گھر آ کر دیر تک جاگتا رہا۔ اسے احساس ہوا کہ وہ برسوں سے صرف اپنے لیے جی رہا تھا، اور باپ کی دی ہوئی اصل دولت — انسانیت — کہیں پیچھے رہ گئی تھی۔

اگلے مہینے علی نے ایک عجیب فیصلہ کیا۔

وہ ہفتے میں دو دن اسی پرانے اسکول میں پڑھانے لگا جہاں اس کے باپ پڑھاتے تھے۔ تنخواہ کی ضرورت نہیں تھی، مگر دل کی ضرورت تھی۔

بچے اس کے گرد ایسے بیٹھتے جیسے کسی کہانی سنانے والے کے پاس بیٹھے ہوں۔

ایک دن ایک بچے نے پوچھا: “سر، آپ یہاں کیوں پڑھاتے ہو؟ آپ تو بڑے افسر ہو…”

علی مسکرایا اور بولا: “کیونکہ میرے باپ نے مجھے سکھایا تھا کہ

چراغ اگر جلتا رہے تو اندھیرا خود ہار جاتا ہے۔”

اس رات علی نے اپنے باپ کا خط دوبارہ پڑھا، مگر اس بار الفاظ بدل گئے تھے۔

اب وہ الفاظ نہیں تھے… وہ زندہ حقیقت تھے۔

بارش پھر برس رہی تھی۔

کھڑکی کے پاس وہی علی بیٹھا تھا،

مگر دل میں اب خلا نہیں تھا۔

اب وہاں ایک خاموش چراغ جل رہا تھا۔


اگر آپ کو یہ کہانی پسند آئے تو اسے اپنے دوستوں اور گھر والوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں، اور مزید ایسی ہی دل کو چھو لینے والی کہانیوں کے لیے ہمیں واٹس ایپ اور ٹیلیگرام پر فالو کریں۔



🌟 हमसे जुड़ें (Official Channels) 🌟

Halat-e-Hazra, Motivation और Funny Stories के लिए आज ही जॉइन करें!

Alfaaz By Salman! 🚀

Comments

Popular posts from this blog

​عنوان: صبر کا دامن اور وفا کا صلہ: ایک غریب یتیم کی سچی داستاں

شبِ برات کی حقیقت: مستند احادیث اور اکابرین کی روشنی میں

شب براءت: فضائل، مسائل اور اصلاحِ معاشرہ کا ایک جامع مطالعہ