سیدنا مصعب بن عمیرؓ: مکہ کے شہزادے سے اسلام کے پہلے سفیر تک
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
"مکہ کا وہ شہزادہ جس کے لباس کی خوشبو سے گلیاں مہک اٹھتی تھیں، آخر اسے کس چیز نے ٹاٹ کے پیوند لگے لباس تک پہنچا دیا؟ کیا کوئی عشق اتنا قیمتی ہو سکتا ہے کہ انسان اپنی اربوں کی دولت ٹھکرا دے؟ آئیے جانتے ہیں اسلام کے پہلے سفیر حضرت مصعب بن عمیرؓ کی وہ داستان، جسے پڑھ کر آپ اپنے آنسو نہیں روک پائیں گے۔"
مکہ کی تپتی ہوئی گلیوں میں جب ایک خاص قسم کی مہک فضاؤں میں بکھرتی، تو لوگ بلا اختیار کہہ اٹھتے: "دیکھو! مصعب آ رہا ہے۔" یہ وہ نوجوان تھا جس کے لیے یمن سے خاص ریشمی جوڑے تیار ہو کر آتے تھے، جس کے جوتے مکہ میں سب سے مہنگے ہوتے تھے اور جس کی زلفوں کی خوشبو راستوں کو معطر کر دیتی تھی۔حضرت مصعب بن عمیرؓ مکہ کی جس گلی سے گزرتے وہ گلی خوشبو سے معطر ہو جاتی مکہ مکرمہ کے لوگ سمجھ جاتے مصعب بن عمیرؓ اِدھر سے گزرے ہیں مکہ کی مائیں اپنے بیٹوں کو مصعب کی مثالیں دیا کرتی تھیں۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب عشقِ رسول ﷺ کا تلاطم دل میں اٹھتا ہے، تو ریشم و اطلس کی قیمت مٹی سے بھی کم ہو جاتی ہے۔
حق کی پکار اور ریشم کا تیاگ
مصعب بن عمیرؓ نے جب دارِ ارقم میں نبی کریم ﷺ کی زبانِ مبارک سے قرآن کی تلاوت سنی، تو روح وجد میں آ گئی۔ مکہ کا وہ لاڈلا شہزادہ سجدے میں گرا تو پھر دنیا کی کوئی طاقت اسے نہ اٹھا سکی۔ لیکن یہ راستہ کانٹوں سے بھرا تھا۔ حضرت مصعب بن عمیرؓ کی والدہ خنّاس بنت مالک جو بہُت سخت گیر عورت تھی جب ان کی ماں "خناس" کو خبر ہوئی، تو وہ ممتا جو کبھی صدقے واری جاتی تھی، آگ بگولا ہو گئی۔
مصعبؓ کو ایک اندھیرے کمرے میں قید کر دیا گیا۔ وہی جسم جو کبھی نرم بستروں کا عادی تھا، اب بھوک، پیاس اور تپتی دیواروں کے رحم و کرم پر تھا۔ ماں نے دھمکی دی: "مصعب! یا تو محمد (ﷺ) کا دین چھوڑ دے یا بھوکا مر جا۔" مصعبؓ کی آواز کمرے کی دیواروں سے ٹکرائی: "اماں! اگر تمہارے پاس سو جانیں ہوں اور وہ ایک ایک کر کے نکلیں، تب بھی میں اس دین کو نہیں چھوڑوں گا جس نے مجھے جینے کا ڈھنگ سکھایا ہے۔"
خوشبوؤں کا رخصت ہونا
کچھ عرصہ بعد جب مصعبؓ قید سے نکل کر حبشہ کی طرف ہجرت کر کے واپس آئے، تو دیکھنے والے دنگ رہ گئے۔ وہ چہرہ جو کبھی چاند کی طرح دمکتا تھا، اب فاقوں سے کملا چکا تھا۔ بدن پر پیوند لگا ایک کمبل تھا، جس پر جانوروں کی کھال کے ٹکڑے سلے ہوئے تھے۔ ایک دن نبی کریم ﷺ نے انہیں اس حال میں دیکھا تو آپ ﷺ کی مبارک آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے اور آپ ﷺ نے فرمایا:
"دیکھو اس نوجوان کو! میں نے اسے مکہ میں سب سے زیادہ نعمتوں اور عیش میں دیکھا تھا، لیکن آج اللہ اور اس کے رسول کی محبت نے اسے اس حال میں لا کھڑا کیا ہے۔"
مدینہ کا پہلا چراغ
رسول اللہ ﷺ نے مصعبؓ کو ایک عظیم مشن کے لیے چنا۔ انہیں مدینہ بھیجا گیا تاکہ وہ وہاں اسلام کی شمع روشن کریں۔ مصعبؓ نے تلوار سے نہیں، بلکہ اپنے بے مثال کردار اور قرآن کی شیرینی سے مدینہ کے گھر گھر میں اسلام کا پیغام پہنچا دیا۔ یہ مصعبؓ ہی کی محنت تھی کہ جب نبی کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے، تو پورا شہر "لبیک" کہہ رہا تھا۔ مکہ کے شہزادے نے مدینہ کو اسلام کا گہوارہ بنا دیا تھا۔
اُحد کی زمین اور آخری امتحان
غزوۂ احد کا میدان سجا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسلام کا علم (جھنڈا) حضرت مصعبؓ کے سپرد کیا۔ جب میدان میں افراتفری مچی اور لوگ ادھر ادھر ہوئے، تو مصعبؓ چٹان بن کر ڈٹ گئے۔ دشمن کا ایک سوار "ابنِ قمیہ" آگے بڑھا اور مصعبؓ کے دائیں ہاتھ پر وار کیا، ہاتھ کٹ کر دور گرا۔ مصعبؓ نے پرچم گرنے نہ دیا اور بائیں ہاتھ سے تھام لیا۔ دشمن نے بائیں ہاتھ پر وار کیا، وہ بھی کٹ گیا۔
سبحان اللہ! عشق کا عالم دیکھیے، دونوں ہاتھ کٹ چکے ہیں مگر مصعبؓ نے کٹے ہوئے بازوؤں سے پرچم کو سینے سے لگا لیا تاکہ اسلام کا جھنڈا نیچا نہ ہو۔ آخر کار ایک نیزہ ان کے سینے کے پار ہو گیا اور وہ تڑپ کر زمین پر گر گئے۔ زبان پر آخری الفاظ یہ تھے: "وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ" (اور محمد ﷺ تو بس اللہ کے رسول ہیں)۔
کفن کی تنگی: دل چیر دینے والا منظر
جنگ ختم ہوئی، شہداء کی لاشیں چنی جا رہی تھیں۔ نبی کریم ﷺ اپنے اس پیارے صحابی کی لاش کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ مکہ کا وہ امیر زادہ آج اس حال میں ہے کہ کفن کے لیے ایک چھوٹی سی چادر ہے۔ سر ڈھانپتے تو پاؤں کھل جاتے، پاؤں ڈھانپتے تو سر کھل جاتا۔
قربان جائیے اس عظیم قربانی پر! اللہ کے رسول ﷺ نے روتے ہوئے حکم دیا: "ان کا سر چادر سے ڈھانپ دو اور پاؤں پر گھاس (اذخر) ڈال دو۔" آج بھی تاریخ روتی ہے جب وہ اس منظر کا تصور کرتی ہے کہ جس نوجوان کے لباس کی قیمت ہزاروں درہم تھی، اسے دفن ہونے کے لیے دو گز کا پورا کفن بھی میسر نہ آیا۔ مگر مصعبؓ نے سودا مہنگا نہیں کیا تھا، انہوں نے زمین کے ریشم دے کر جنت کا ابدی ریشم خرید لیا تھا۔
خلاصہ: جو ہمیں سوچنا ہے
حضرت مصعب بن عمیرؓ کی زندگی ہمیں چیخ چیخ کر بتاتی ہے کہ:
- ایمان سے بڑھ کر کوئی دولت نہیں۔
- کردار وہ ہتھیار ہے جو دلوں کو فتح کرتا ہے۔
- نوجوانی کا اصل مصرف اللہ کی رضا ہے۔
اے اللہ! ہمیں بھی مصعب بن عمیرؓ جیسا عشقِ رسول ﷺ اور ثابت قدمی عطا فرما۔ آمین۔
ایسی ہی ایمان افروز داستانیں اور اسلامی واقعات اپنے واٹس ایپ پر حاصل کرنے کے لیے ہمارے چینل کو ابھی جوائن کریں۔ حق کی آواز کو عام کرنے میں ہمارا ساتھ دیں!
🌟 हमसे जुड़ें (Official Channels) 🌟
Halat-e-Hazra, Motivation और Funny Stories के लिए आज ही जॉइन करें!
Alfaaz By Salman! 🚀

Mashallah subhanallah 🌹❤️👍
ReplyDelete