(روزے کا حق اور دوسرے عشرے کی عظمت: ایک فکر انگیز تحریر)

Ramadan second ashra maghfirat prayer in mosque with Quran and lantern

رمضان کی قیمتی گھڑیاں: غفلت کی نیند سے جاگنے کا وقت

رمضان المبارک کا سورج تیزی سے اپنی منزل کی طرف بڑھ رہا ہے اور افسوس کہ پہلا عشرہ ہماری آنکھوں کے سامنے سے گزر گیا۔ ذرا ٹھہر کر اپنے گریبان میں جھانکیں! کیا ہم نے ان دس دنوں کو اس طرح گزارا جیسے گزارنے کا حق تھا؟ یا پھر ہم وہی پرانی ڈگر پر چلتے رہے؟ یاد رکھیں، رمضان کا ایک ایک لمحہ، ایک ایک سیکنڈ اتنا قیمتی ہے کہ پوری دنیا کی دولت دے کر بھی اس کا ایک لمحہ واپس نہیں خریدا جا سکتا۔ جو شخص رمضان جیسے بابرکت مہینے کی گھڑیوں کو لغو باتوں اور فضول گفتگو میں ضائع کر رہا ہے، وہ خسارے میں ہے۔

حضور پاک ﷺ کا فرمانِ عالی شان ہے:

مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ

اس حدیث کا مفہوم صرف روزہ رکھنا نہیں، بلکہ احتساب کرنا بھی ہے۔ پہلا عشرہ گزر گیا، اب دوسرا عشرہ (مغفرت) شروع ہو چکا ہے۔ کیا ہم اب بھی اپنی پرانی عادتوں پر قائم رہیں گے؟ جو لمحہ بغیر ذکر و اذکار، بغیر تلاوت اور بغیر توبہ کے گزر گیا، وہ قیامت کے دن ہمارے لیے حسرت کا باعث بنے گا۔ فرشتے پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ اے نیکی کے طلبگار! آگے بڑھ، اور اے برائی کے دلدادہ! رک جا۔ یہ وقت سونے کا نہیں، جاگنے کا ہے؛ یہ وقت رونے کا ہے، اپنے رب کو منانے کا ہے۔

روزے کا حق تب ادا ہوتا ہے جب ہمارے وجود کا ہر ذرہ روزہ دار ہو۔ کیا آپ کی زبان نے غیبت سے روزہ رکھا؟ کیا آپ کی آنکھوں نے حرام دیکھنے سے توبہ کی؟ کیا آپ کے دل میں دوسروں کے لیے نفرت ختم ہوئی؟ اگر نہیں، تو آپ کا روزہ محض ایک فاقہ ہے۔ یاد رکھیں، بھوک اور پیاس برداشت کرنا بہت آسان ہے، لیکن گناہوں کو چھوڑنا ہی اصل جہاد ہے۔ مغفرت کا یہ عشرہ ہمیں پکار رہا ہے کہ آؤ اور اپنے گناہوں کا بوجھ اس عظیم مہینے کے صدقے میں اتار پھینکو۔

غریبوں اور مسکینوں کا ذکر اس مہینے میں محض ایک رسم نہیں ہونی چاہیے۔ جب ہم پیاس سے تڑپتے ہیں، تب ہمیں ان یتیموں اور بیواؤں کا احساس ہونا چاہیے جو سارا سال اسی پیاس اور بھوک میں گزار دیتے ہیں۔ اپنی مغفرت اگر چاہتے ہو، تو اللہ کے بندوں پر رحم کرنا سیکھو۔ اپنے مال میں سے ان کا حصہ نکالیں جن کے پاس افطار کے لیے ایک کھجور بھی نہیں ہے۔ جب آپ کسی بھوکے کا پیٹ بھرتے ہیں، تو درحقیقت آپ اپنے لیے جنت کا راستہ ہموار کر رہے ہوتے ہیں۔

خدارا! اس رمضان کو بھی پچھلے سالوں کی طرح ضائع نہ ہونے دیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ عید کے دن ہم خالی ہاتھ رہ جائیں اور پچھتاوے کے سوا کچھ نہ بچے۔ ابھی وقت ہے، سانسیں چل رہی ہیں، دوسرے عشرے کے دن باقی ہیں۔ اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہو جائیں، اس سے معافی مانگیں اور عزم کریں کہ آج سے ایک ایک لمحہ ذکرِ الٰہی میں گزرے گا۔ موبائل کی دنیا سے باہر نکل کر اللہ کی کتاب سے رشتہ جوڑیں، کیونکہ یہی وہ کلام ہے جو قبر کے اندھیرے میں آپ کا ساتھی بنے گا۔

اگر آج ہم نے توبہ نہ کی، اگر آج ہم نے اپنی اصلاح نہ کی، تو پھر کب کریں گے؟ کیا ہمیں اپنی زندگی کی ضمانت حاصل ہے؟ رمضان تو ہر سال آئے گا، لیکن کیا پتہ اگلے رمضان ہم ہوں یا نہ ہوں۔ اس خسارے سے بچیں جو ان لوگوں کا مقدر بنتا ہے جو نیکی کے موسمِ بہار میں بھی محروم رہ جاتے ہیں۔ اپنے دلوں کو ذکر سے منور کریں اور اس پاک مہینے کی برکتوں کو دونوں ہاتھوں سے سمیٹیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق دے۔

رمضان المبارک کے مزید ایمان افروز مضامین، دینی مسائل اور اپنی روحانی اصلاح کے لیے ہمارے بلاگ کے ساتھ جڑے رہیں۔ ہم ہر روز آپ کے لیے ایسی ہی فکر انگیز تحریریں لاتے رہیں گے۔

Comments

Popular posts from this blog

​عنوان: صبر کا دامن اور وفا کا صلہ: ایک غریب یتیم کی سچی داستاں

شبِ برات کی حقیقت: مستند احادیث اور اکابرین کی روشنی میں

شب براءت: فضائل، مسائل اور اصلاحِ معاشرہ کا ایک جامع مطالعہ