حضرت عمر فاروقؓ: وہ حکمران جس کے عدل سے قیصر و کسریٰ کے تخت کانپ اٹھتے تھے

​حضرت عمر فاروقؓ کی مکمل سوانح حیات۔ عدل و انصاف کے پیکر، دوسرے خلیفہ کے دورِ حکومت اور فتوحات کی ایمان افروز داستان اردو میں پڑھیں۔
Hazrat Umar Farooq (RA) the Shahaswar of Justice Islamic history
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ: وہ شاخسار جس نے ظلم کے اندھیرے کو عدل کی روشنی میں بدل دیا

تصنیف: محمد سلمان

پڑھنے کا وقت: 12 منٹ


تعارف: وہ شخص جس سے شیطان بھی ڈرتا تھا


آج ہم ایک ایسی عظیم ہستی کے بارے میں بات کریں گے جس کا نام سنتے ہی ظلم کے پجاری کانپ جاتے تھے۔ جس کی داد رسی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک عورت نے ایک دن کہہ دیا تھا کہ اگر عمر فاروق نہ ہوتے تو ہم کبھی سیدھے راستے پر نہ آتے۔ جی ہاں، ہم بات کر رہے ہیں خلیفہ دوم، امیر المومنین، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی۔

وہ شخص جس نے اسلام قبول کر کے اس دین کو طاقت بخشی، جس نے عدل و انصاف کی ایسی مثالیں قائم کیں کہ آج بھی دنیا انہیں یاد کرتی ہے، اور جس نے ایران و روم کے تخت و تاج کو خاک میں ملا دیا۔ لیکن سب سے بڑھ کر وہ انسان جس کا دل اتنا نرم تھا کہ وہ راتوں کو جاگ کر مسلمانوں کے مسائل سنتا تھا۔

آئیے آج ہم اس عظیم شخصیت کی زندگی کے ایسے پہلوؤں کو سمجھتے ہیں جو ہمارے ایمان کو تازہ کر دیں گے، جو ہمیں بتائیں گے کہ ایک سچا حکمران کیسا ہوتا ہے۔

پہلا باب: نام و نسب اور ابتدائی زندگی


حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا نام عمر تھا، والد کا نام خطاب اور والدہ کا نام حنتمہ تھی۔ آپ قریش کے قبیلہ بنو عدی سے تعلق رکھتے تھے، جو مکہ کے معزز ترین قبائل میں شمار ہوتا تھا۔ آپ کی ولادت 584 عیسوی میں ہوئی، یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے تقریباً دس سال بعد۔

آپ کی جوانی میں بہت سی خوبیاں تھیں۔ آپ بہترین گھڑ سوار تھے، تیر اندازی میں ماہر تھے، اور اپنی طاقت اور دلیری کے لیے مشہور تھے۔ اس کے علاوہ آپ پڑھے لکھے بھی تھے، جب کہ اس زمانے میں پڑھے لکھے لوگ کم ہی ہوا کرتے تھے۔

لیکن اس سب کے باوجود آپ اسلام کے سخت دشمن تھے۔ آپ کو اسلام سے اتنی نفرت تھی کہ آپ نے ایک دن تلوار اٹھائی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کے ارادے سے نکل پڑے۔ لیکن راستے میں آپ کو ایک شخص نے بتایا کہ تمہاری بہن اور اس کا شوہر مسلمان ہو چکے ہیں۔ یہ سن کر آپ کا غصہ اور بڑھ گیا اور آپ سیدھے اپنی بہن کے گھر پہنچے۔

یہ وہ دن تھا جب اللہ نے اپنے نبی کے لیے ایک ایسا سپہ سالار تیار کیا جس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا تھا کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔
ایمان کو تازہ دم کر دینے والے اِس واقعہ کو بھی پڑھیں 

دوسرا باب: اسلام قبول کرنے کا وہ واقعہ جس نے تاریخ بدل دی


اب آتے ہیں اس لمحے پر جب حضرت عمر کا دل پگھلا۔ جب وہ اپنی بہن کے گھر پہنچے تو دیکھا کہ بہن اور اس کا شوہر قرآن کی ایک سورہ پڑھ رہے ہیں۔ آپ نے غصے میں انہیں مارنا شروع کر دیا، لیکن جب بہن کے منہ سے خون بہنے لگا تو وہ رک گئی اور بولی - "عمر، تم چاہے ہمیں مار دو، لیکن ہم اپنے دین سے باز نہیں آئیں گے"۔

یہ الفاظ سن کر حضرت عمر کے دل میں ایک عجیب سا اضطراب پیدا ہوا۔ انہوں نے کہا - "وہ کاغذ مجھے دو جو تم پڑھ رہی تھی"۔ بہن نے کہا - "تم ناپاک ہو، اسے صرف پاک لوگ چھو سکتے ہیں"۔

حضرت عمر نہا کر آئے اور پھر وہ کاغذ پڑھنا شروع کیا۔ وہ سورہ طٰہٰ کی آیات تھیں۔ جب آپ نے یہ آیات پڑھیں تو آپ کا دل کانپ اٹھا۔ آپ نے کہا - "یہ کلام کسی انسان کا نہیں ہو سکتا، یہ ضرور اللہ کا کلام ہے"۔

بس پھر کیا تھا، حضرت عمر نے تلوار اٹھائی اور سیدھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا - "یا رسول اللہ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں"۔

یہ سن کر تمام صحابہ کرام کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا اور سارا مکہ گونج اٹھا۔

یہ وہ لمحہ تھا جب اسلام کو وہ طاقت ملی جس کی اسے سخت ضرورت تھی۔ حضرت عمر کے اسلام لانے کے بعد مسلمانوں نے پہلی بار کھلم کھلا نماز پڑھی، پہلی بار بغیر ڈر کے کعبہ کا طواف کیا۔


تیسرا باب: عدل و انصاف کی وہ مثالیں جو آج بھی زندہ ہیں


حضرت عمر فاروق کا دور خلافت عدل و انصاف کی انتہا تھا۔ آپ نے وہ اصول قائم کیے جسے آج بھی پوری دنیا سر آنکھوں پر بٹھاتی ہے۔

ایک مرتبہ مصر کے گورنر عمرو بن العاص کے بیٹے نے ایک قبطی شخص کو کوڑے مارے۔ اس قبطی نے مدینہ آ کر حضرت عمر سے شکایت کی۔ آپ نے فوراً مصر کے گورنر اور ان کے بیٹے کو طلب کیا۔ جب وہ آئے تو آپ نے قبطی کو کوڑا دے کر کہا - "جا، جس طرح اس نے تجھے مارا ہے تو اسے بھی مار"۔

عمرو بن العاص نے کہا - "یا امیر المومنین، یہ میرے بیٹے کو مار رہا ہے"۔ حضرت عمر نے فرمایا - "تم نے لوگوں کو کیوں کر غلام بنا لیا، حالانکہ اس کی ماں نے انہیں آزاد پیدا کیا تھا"۔

یہ ہے حضرت عمر کا انصاف۔ چاہے وہ گورنر ہو یا اس کا بیٹا، چاہے وہ عام آدمی ہو یا کوئی امیر، سب کے لیے ایک ہی قانون تھا۔

ایک اور واقعہ ہے کہ رات کے وقت حضرت عمر شہر کا چکر لگا رہے تھے کہ انہوں نے ایک جھونپڑی سے بچے کے رونے کی آواز سنی۔ جب اندر گئے تو دیکھا کہ ایک عورت اپنے بچے کو دودھ نہیں پلا رہی ہے۔ پوچھنے پر عورت نے بتایا کہ بچہ شور مچا رہا ہے لیکن اس کے پاس دودھ نہیں ہے۔

حضرت عمر فوراً گودام میں گئے اور اپنے کندھے پر آٹا اور گھی اٹھا کر لے آئے۔ عورت نے کہا - "آپ امیر المومنین ہیں، آپ یہ کیوں کر رہے ہیں؟" حضرت عمر نے جواب دیا - "تمہارے بچے کی بھوک کی آواز سن کر میرا دل پتھر نہیں ہو سکتا تھا"۔

یہ تھے وہ حکمران جو راتوں کو جاگ کر مسلمانوں کے مسائل سنتے تھے، جو خود بھوکے رہتے لیکن دوسروں کو کھلاتے تھے، جن کا کہنا تھا کہ اگر دریائے فرات کے کنارے ایک بکری بھی کھو جائے تو اللہ مجھ سے اس کا حساب لے گا۔

چوتھا باب: فتوحات کا سلسلہ جس نے دنیا کا نقشہ بدل دیا


حضرت عمر فاروق کے دور خلافت میں اسلامی سلطنت نے وہ ترقی کی جو تاریخ میں کہیں اور دیکھنے کو نہیں ملتی۔ ایران کی عظیم سلطنت خاک میں مل گئی، روم کے بازنطینی سامراج کے پسینے چھوٹ گئے۔

بیت المقدس کی فتح تو ایک معجزہ تھی۔ حضرت عمر نے خود وہاں جا کر شہر کے کلیدی قبضے لیے اور عیسائیوں کو مکمل تحفظ دینے کا وعدہ کیا۔ آپ نے وہاں پر ایک مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا جو آج بھی موجود ہے اور "مسجد عمر" کے نام سے جانی جاتی ہے۔

لیکن سب سے بڑی بات یہ تھی کہ ان تمام فتوحات میں آپ نے کبھی کسی بے گناہ کو نہیں مارا، کبھی کسی کے گھر کو نہیں جلایا، کبھی کسی عورت کی عزت کو نہیں لوٹا۔ آپ نے فتح کرنے کے بعد لوگوں کو اپنے دین پر رہنے کی مکمل آزادی دی۔

جب ایران کا تاج و تخت آپ کے سامنے رکھا گیا تو آپ نے اسے دیکھ کر فرمایا - "یہ وہ لوگ تھے جو اپنی امانتوں کی حفاظت کرتے تھے، اس لیے اللہ نے انہیں یہ سب کچھ دے رکھا تھا"۔

پانچواں باب: حضرت عمر کی وہ پانچ خوبیاں جو ہمیں اپنانا چاہئیں


پہلی خوبی - حق گوئی: حضرت عمر ہمیشہ حق بات کہتے تھے، چاہے وہ کسی کے خلاف کیوں نہ ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود فرمایا کرتے تھے کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔

دوسری خوبی - سادگی: خلیفہ ہونے کے باوجود آپ کا لباس پیوند لگا ہوا ہوتا تھا، آپ کی خوراک سادہ روٹی اور پانی تھی، اور آپ کا گھر مٹی کا بنا ہوا تھا۔

تیسری خوبی - عوام سے قربت: آپ خود راتوں کو شہر کا چکر لگاتے تھے، لوگوں کے مسائل سنتے تھے، اور فوراً ان کا حل نکالتے تھے۔

چوتھی خوبی - مشاورت: آپ کبھی بھی کوئی فیصلہ اکیلے نہیں کرتے تھے، ہمیشہ صحابہ کرام سے مشورہ کرتے تھے۔ آپ کا کہنا تھا کہ مشورہ کرنے میں کوئی برائی نہیں ہے۔

پانچویں خوبی - اللہ کا خوف: آپ اتنا ڈرتے تھے کہ آپ کے پیٹ کی آواز شہد کی مکھی کی طرح گونجتی تھی، اور آپ اکثر فرمایا کرتے تھے - "کاش میں ایک درخت ہوتا، کاش میں ایک پرندہ ہوتا، کاش میں کچھ بھی ہوتا لیکن انسان نہ ہوتا"۔

چھٹا باب: وفات کا منظر جس نے مدینہ کو رو دیا


حضرت عمر فاروق کی وفات کا واقعہ بہت ہی دردناک ہے۔ ایک مجوسی غلام نے آپ پر نماز فجر کے وقت چھرا گھونپ دیا۔ جب آپ زخمی ہوئے تو آپ نے پوچھا - "کیا میں نے کسی پر ظلم کیا ہے؟ کیا میں نے کسی کا حق مارا ہے؟ کیا میں نے اللہ کی امانت میں خیانت کی ہے؟"

آپ نے وصیت کی کہ میرے بعد مشورہ سے خلیفہ منتخب کیا جائے، اور آپ نے چھ صحابہ کے نام بتا دیے جن میں حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عبدالرحمن بن عوف شامل تھے۔

آپ نے کہا کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر کے پاس دفن کرنا، لیکن اگر وہاں جگہ نہ ہو تو مجھے جنت البقیع میں دفنا دینا۔

26 ذوالحجہ 23 ہجری کو آپ نے وفات پائی۔ جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو نبی کریم کے پاس دفن کرنے کی اجازت دی تو سارا مدینہ رو پڑا۔ لوگوں نے کہا - "آج عدل و انصاف کا سورج غروب ہو گیا"۔
کیا آپکا کل گزر چکا ہے اِس خوبصورت علم بھر پور اسٹوری بھی پڑھیں 

اکثر پوچھے جانے والے سوالات


سوال: حضرت عمر فاروق کو "فاروق" کا لقب کیوں دیا گیا؟
جواب: "فاروق" کا مطلب ہے "حق و باطل میں فرق کرنے والا"۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ لقب دیا کیونکہ وہ ہمیشہ حق اور باطل میں واضح فرق کرتے تھے۔

سوال: حضرت عمر فاروق نے کتنی مدت خلافت سنبھالی؟

جواب: تقریباً دس سال (634 عیسوی سے 644 عیسوی تک)۔ ان دس سالوں میں اسلامی سلطنت نے بے مثال ترقی کی۔

سوال: حضرت عمر فاروق کی سب سے بڑی خوبی کیا تھی؟

جواب: ان کی سب سے بڑی خوبی عدل و انصاف تھا۔ وہ امیر اور غریب میں کوئی فرق نہیں کرتے تھے۔ ان کے دور میں بھیڑیا اور بکری ایک ساتھ پانی پیتے تھے، جیسا کہ عربی مثل ہے۔

سوال: حضرت عمر فاروق نے ہجری کیلنڈر کب متعارف کرایا؟

جواب: 638 عیسوی میں، جب آپ نے مشورہ لے کر نبی کریم کی ہجرت کو اسلامی کیلنڈر کا آغاز قرار دیا۔


سوال: حضرت عمر نے کن بڑی سلطنتوں کو فتح کیا؟

جواب: آپ کے دور میں ایران کی پوری سلطنت، شام، فلسطین، مصر، اور عراق کے بڑے حصے فتح ہوئے۔


سوال: حضرت عمر فاروق کا مزار کہاں ہے؟

جواب: مسجد نبوی، مدینہ منورہ میں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق کے پہلو میں۔

سوال: حضرت عمر فاروق کی سب سے بڑی اصلاحات کیا تھیں؟

جواب: بیت المال کا نظام، عدالتی نظام، فوجی چھاؤنیوں کا قیام، اور ہجری کیلنڈر کا آغاز۔

ایمان تازہ کرنے والا واقعہ


حضرت عمر فاروق کے بارے میں ایک واقعہ بہت مشہور ہے۔ ایک مرتبہ آپ نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا - "اے لوگو، اگر میں نے کسی پر ظلم کیا ہے تو وہ آئے اور مجھ سے بدلہ لے"۔

ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا - "یا امیر المومنین، آپ نے مجھے ایک کوڑا مارا تھا"۔ حضرت عمر نے فوراً اپنے بیٹے عبداللہ سے کہا - "جا، اسے ایک کوڑا مار"۔

عبداللہ نے کہا - "والد جان، آپ نے تو وہ کوڑا انصاف کے تحت مارا تھا"۔ حضرت عمر نے فرمایا - "خاموش، اسے مار، ورنہ قیامت کے دن اللہ کے سامنے شرمندہ ہونا پڑے گا"۔

یہ ہے حضرت عمر کا انصاف۔ وہ خود کو کسی سے بڑا نہیں سمجھتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ اللہ کے ہاں سب برابر ہیں۔

آخری پیغام: حضرت عمر کی زندگی سے ہم کیا سیکھ سکتے ہیں؟

آج ہم نے حضرت عمر فاروق کی زندگی کے چند پہلوؤں کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ وہ شخص جس نے ظلم کے اندھیرے کو عدل کی روشنی میں بدل دیا، جس نے اپنی سادگی سے دنیا کو یہ سبق دے دیا کہ حکمران خادم ہوتا ہے مالک نہیں، اور جس نے اپنی وفات تک عوام کی خدمت کی۔

حضرت عمر کی زندگی ہمیں تین بڑے سبق دیتی ہے۔

پہلا سبق - عدل: چاہے سامنے کوئی بھی ہو، انصاف کرنا ہی بڑی عبادت ہے۔

دوسرا سبق - سادگی: خلیفہ ہونے کے باوجود سادہ زندگی گزارنا، لوگوں سے جڑے رہنا۔

تیسرا سبق - اللہ کا خوف: ہمیشہ اللہ سے ڈرتے رہنا، یقین رکھنا کہ اللہ ہر چیز دیکھ رہا ہے۔

کچھ میرے اپنے الفاظ

پیارے قارئین، میں  آپ سے کہنا چاہوں گا کہ آج کے دور میں جہاں ہر طرف ناانصافی پھیلی ہوئی ہے، جہاں چھوٹے لوگوں کو کچلا جا رہا ہے، وہاں حضرت عمر فاروق کی زندگی ہمارے لیے ایک مشعل ہے۔ وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ طاقت کا استعمال کمزوروں کے لیے ہوتا ہے، ان کے خلاف نہیں۔

آج ہم میں سے ہر شخص اپنے اپنے دائرے میں ایک حاکم ہے۔ باپ گھر میں حاکم ہے، مالک اپنی فیکٹری میں حاکم ہے، استاد اپنے کلاس روم میں حاکم ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم جہاں بھی ہوں، حضرت عمر والا انصاف کریں۔

یاد رکھیں، اللہ سے کوئی چیز چھپی نہیں ہے۔ آپ نے جو کیا ہے، وہ آپ کو ایک دن ضرور دکھا دے گا۔ اس لیے جتنا ہو سکے، لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں، انصاف کریں، اور کسی پر ظلم نہ کریں۔

ایک درخواست

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہو تو برائے مہربانی اسے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں تک پہنچائیں۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ حضرت عمر فاروق کی سیرت سے مستفید ہو سکیں۔ آپ کی دعاؤں کی مجھے سخت ضرورت ہے۔

محمد سلمان
بانی اور مصنف
ہر منٹ اپڈیٹ

اللہ ہمیں حضرت عمر فاروق کی سچی محبت اور ان کی سنت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

ہماری ویب سائٹ پر مزید ایمان افروز اور معلوماتی مضامین پڑھنے کے لیے وزٹ کریں۔ آپ کی محبت اور تعاون ہی ہمارے لیے سب سے بڑی طاقت ہے۔

جزاک اللہ خیرا

مُحبّت کی اِس کہانی کو پڑھیں 

About the Author

Welcome to Her Minute Update! I am MD Salman, a professional content creator and blogger. My platform is a comprehensive digital hub providing real-time, accurate updates across multiple domains. We specialize in providing the fastest results and ne…

1 comment

  1. Masha Allah
Site is Blocked
Sorry! This site is not available in your country.
NextGen Digital Welcome to WhatsApp chat
Howdy! How can we help you today?
Type here...