سیدنا عمر فاروقؓ: ایک چرواہے سے لے کر تاریخ کے عظیم ترین عادل تک کا سفر

hazrat-umar-farooq-history-alfaaz-by-salman


                                                                       تحریر: سلمان (Alfaaz By Salman)   

دنیا کی تاریخ میں بہت سے بادشاہ گزرے، بہت سے فاتح آئے، لیکن کوئی ایسا نہیں گزرا جس کے قدموں کی چاپ سے شیطان راستہ بدل لیتا ہو اور جس کے دل کی نرمی کا یہ حال ہو کہ ایک یتیم بچے کے آنسو دیکھ کر وقت کا یہ حکمران دھاڑیں مار کر رونے لگے۔ یہ کہانی ہے اس انسان کی جس نے ثابت کیا کہ اسلام انسان کو بدلنے کی وہ طاقت رکھتا ہے جو پتھر کو بھی موم کر دے۔

١. وہ دن جب بکریاں چرانا بھی مشکل تھا

سیدنا عمرؓ کی زندگی کا آغاز ایک عام نوجوان کی طرح ہوا تھا۔ ان کے والد، خطاب، بہت سخت مزاج تھے۔ وہ عمرؓ کو بکریاں چرانے کے لیے مکہ کے بیابانوں میں بھیجتے۔ ایک بار عمرؓ تھک گئے یا کچھ بکریاں گم ہو گئیں، تو ان کے باپ نے غصے میں کہا تھا:

"عمر! تو تو ایک ادنیٰ سا چرواہا ہے، تجھے تو ڈھنگ سے بکریاں چرانا بھی نہیں آتا۔ تو زندگی میں کیا خاک کرے گا؟"

باپ کی وہ جھڑکیاں اور وہ طعنے سن کر شاید اس وقت کے عمرؓ کو بھی نہیں معلوم تھا کہ جس بیٹے کو اس کا باپ 'بکریوں کے لائق' نہیں سمجھتا، اللہ اسے 'پوری انسانیت کا نگہبان' بنانے والا ہے۔

٢. تلوار سے قرآن تک کا سفر

مکہ کی گلیوں میں عمرؓ کا نام رعب اور خوف کی علامت تھا۔ لمبا قد، کسرتی جسم اور آنکھوں میں ایسا جلال کہ بڑے بڑے سورما نظریں جھکا لیتے۔ وہ اسلام کے سخت دشمن تھے، لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

ایک دن وہ غصے میں تلوار نکال کر حضور ﷺ کی طرف نکلے، لیکن راستے میں پتہ چلا کہ ان کی اپنی بہن فاطمہؓ اور بہنوئی سعیدؓ مسلمان ہو چکے ہیں۔

جب وہ غصے میں بہن کے گھر پہنچے، تو وہاں قرآن کی تلاوت ہو رہی تھی۔ بہن کو مارا، ان کے چہرے سے خون بہنے لگا، لیکن بہن کے ایمان نے عمرؓ کے دل پر دستک دی۔ جب انہوں نے سورہ طہٰ کی یہ آیات پڑھیں:

"طٰہٰ... ہم نے قرآن تم پر اس لیے نازل نہیں کیا کہ تم مشقت میں پڑ جاؤ..."

تو وہ عمرؓ جو پہاڑ جیسا سخت تھا، وہ پگھل کر پانی ہو گیا۔ وہ تلوار جو قتل کرنے نکلی تھی، حضور ﷺ کے قدموں میں گر گئی اور عمرؓ نے کلمہ پڑھ کر اسلام کی وہ ڈھال بننے کا عہد کیا جس نے کفر کے ایوانوں میں زلزلہ پیدا کر دیا۔

٣. راتوں کا وہ پاسبان: پیٹھ پر آٹے کی بوری

خلافت کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد عمرؓ وہ انسان بن گئے تھے جن کی آنکھوں سے نیند اڑ چکی تھی۔ وہ فرماتے تھے: "اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا مر گیا، تو قیامت کے دن عمر سے اس کا حساب لیا جائے گا۔"

ایک رات کا واقعہ ہے، آپ بھیس بدل کر گلیوں میں گھوم رہے تھے کہ ایک خیمے سے بچوں کے رونے کی آواز آئی۔ اندر دیکھا تو ایک ماں ہانڈی چڑھا کر بیٹھی تھی اور بچے رو رہے تھے۔

عمرؓ نے پوچھا: "ماں! بچوں کو کھانا کیوں نہیں دیتی؟"

وہ بولی: "بیٹا! ہانڈی میں صرف پانی اور کنکریاں ہیں، میں انہیں بہلا رہی ہوں کہ کھانا بن رہا ہے تاکہ یہ سو جائیں۔ اللہ عمر (ؓ) سے سمجھے گا، اسے ہماری خبر ہی نہیں۔"

وقت کا خلیفہ تڑپ اٹھا! وہ دوڑ کر بیت المال گئے، آٹے کی بوری اور گھی خود اپنی پیٹھ پر لادا۔ غلام نے کہا: "امیر المومنین! میں اٹھا لیتا ہوں۔"

آپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور فرمایا: "کیا قیامت کے دن میرا بوجھ تم اٹھاؤ گے؟"

آپ نے اس جھونپڑی میں خود اپنے ہاتھوں سے چولہا پھونکا، کھانا پکایا اور جب تک بچوں نے ہنستے ہوئے پیٹ نہیں بھر لیا، آپ وہاں سے نہیں ہلے۔

٤. سادگی اور عدل کا وہ جاہ و جلال

عمرؓ کا عدل ایسا تھا کہ وقت بھی مثال دیتا ہے۔ ایک عام آدمی نے گورنر کی شکایت کی تو آپ نے گورنر کو بھرے مجمعے میں بلایا اور کہا کہ یہ مظلوم تم سے بدلہ لے گا۔ آپ نے کسی کی پرواہ نہ کی۔

یروشلم کی فتح کا وہ منظر کوئی کیسے بھول سکتا ہے؟ فاتحِ عالم کے لباس پر ١٧ پیوند تھے اور باری کی وجہ سے اونٹ کی مہار عمرؓ کے ہاتھ میں تھی اور ان کا غلام اونٹ پر سوار تھا۔

٥. شہادت: عشق کی معراج

عمرؓ کی زندگی جتنی پرجلال تھی، ان کا انجام اتنا ہی پُرنور تھا۔ فجر کی نماز میں جب ان پر وار ہوا، تو پہلا سوال کیا تھا؟ "کیا مسلمانوں نے نماز پوری کر لی؟" وہ باپ کی ڈانٹ سہنے والا لڑکا آج اللہ کے رسول ﷺ کے پہلو میں دفن ہونے کی اجازت پا رہا تھا۔ اللہ نے ان کی زندگی بھی حضور ﷺ کے ساتھ رکھی اور موت بھی۔

نتیجہ: کیا ہم بدل سکتے ہیں؟

سیدنا عمرؓ کی زندگی ہمیں بتاتی ہے کہ انسان کتنا ہی سخت کیوں نہ ہو، جب قرآن اس کے دل میں اتر جاتا ہے، تو وہ دنیا کے لیے رحمت بن جاتا ہے۔ وہ جو بکریاں چرانے کے لائق نہیں سمجھا جاتا تھا، اس نے آدھی دنیا کو وہ عدل دیا جو آج تک کسی کو نصیب نہ ہو سکا۔

آئیں آج ہم بھی اپنے دلوں میں عمرؓ جیسا انصاف اور عمرؓ جیسا درد پیدا کرنے کی کوشش کریں۔

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

​عنوان: صبر کا دامن اور وفا کا صلہ: ایک غریب یتیم کی سچی داستاں

شبِ برات کی حقیقت: مستند احادیث اور اکابرین کی روشنی میں

شب براءت: فضائل، مسائل اور اصلاحِ معاشرہ کا ایک جامع مطالعہ